The news is by your side.

Advertisement

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش

اسلام آباد : وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ قومی نوعیت کے معاملے پر بات کرنا چاہیے تو ہم تیار ہیں، ہم سیاسی عمل کے قائل ہیں، پارلیمنٹ سب سے مقدس فورم ہے تو آئیے بات کرتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا آج پی ڈی ایم کی قیادت رائیونڈ میں اکٹھی ہورہی ہے، پیپلزپارٹی نے فیصلہ کیا ہے وہ استعفےنہیں دے گی ، سینیٹ انتخابات میں بھی حصہ لے گی اور پی پی کو ضمنی انتخابات میں حصہ لیناہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ 31جنوری آئے گی اور چلی جائے گی،عمران خان استعفیٰ نہیں دیں گے، پی ڈی ایم اجلاس میں بھی استعفے نہ دینے کا فیصلہ ہوتا دکھائی دےرہا ہے، پی پی کےزیادہ ممبران کسی تاریخ پرزیادہ آمادہ دکھائی نہیں دیے، پی پی کے زیادہ ارکان نے معاملہ نواز شریف کی واپسی سے مشروط کیا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں27 دسمبر بہت افسوسناک دن ہے، 27 دسمبر کو بینظیربھٹو کی شہادت ہوئی، اس صدمے میں سب شریک ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کا اتنااہم اجلاس ہے تو بلاول بھٹورائیونڈ میں کیوں نہیں؟ دیکھیں اجلاس میں پی پی کی نمائندگی یوسف رضا گیلانی، پرویزاشرف کررہےہیں، دیکھنا ہے پی ڈی ایم کے دیگر قائدین آج کیا فیصلہ کرتے ہیں، پی ڈی ایم کے استعفوں میں اعتماد کا فقدان پایا جاتا ہے، پی پی نے لانگ مارچ اوراستعفوں سےمتعلق اپنا فیصلہ سنادیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پی ڈی ایم کے آج کے اجلاس میں بھی کوئی فیصلہ نہیں ہوگا، قوم سمجھ گئی ہے پی ڈی ایم کے مقاصد کیا ہیں، عوام کامینڈیٹ ہے، وزیراعظم عمران خان مستعفی نہیں ہوں گے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ آصف زرداری نے اجلاس میں ان کوبھیجاجوبااختیارنہیں ہیں، اندرکی کہانی ہے پی پی کی بڑی تعداد استعفوں کی مخالف ہے، اپوزیشن قومی نوعیت کے معاملے پر بات کرنا چاہیے تو ہم تیار ہیں۔

انھوں نے کہا کہ درانی صاحب کس کی نمائندگی کررہےہیں وہی بہترجواب دےسکتےہیں،ن درانی صاحب کم ازکم تحریک انصاف کاتوحصہ نہیں ہیں، یہ فیصلہ انہوں نےکرناہے ان کی قیادت نے کرناہے۔

مسلم لیگ ن کے حوالے سے وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ن لیگ قیادت کےالفاظ ہیں کہ آریاپارکافیصلہ کرلیا، انہوں نےکہایاآرہوگایاپار، قوم سمجھ رہی ہےکہ ان میں ذہنی ہم آہنگی نہیں، یہ عارضی ،غیرفکری اوروقتی اتحادہے، ہم کہہ رہےہیں قوم کیساتھ مذاق مت کریں، اگرآپ سنجیدہ ہیں توسنجیدگی کامظاہرہ کریں، اگرفیصلہ مستعفی نہ ہونے، سینیٹ انتخاب میں حصہ لینےکاہےتواچھاہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ خان صاحب کی سوچ بڑی واضح ہے، این آر او احتساب کےعمل سےبچنےکاراستہ ہے، وہ خواہش بے نقاب جب ہوئی جب مذاکرات ہوئے۔

پی ایم ڈی اجلاس سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ آج کااجلاس ہوگا بڑی دھوم دھام سےپریس کانفرنس بھی ہوگی، قوم سمجھ گئی کہ حقیقت کیا ہے، قوم پہچان گئی ہےکہ پردے کے پیچھے کیا ہورہا ہے، ہم سیاسی عمل کے قائل ہیں، پارلیمنٹ سب سے مقدس فورم ہے تو آئیے بات کرتے ہیں، پارلیمنٹ میں آکربات کریں این آراو کو ایک طرف کردیں، قومی نوعیت کے مسائل سامنے رکھیں تو گفتگو ہوسکتی ہے۔

کرک واقعے کے حوالے سے وزیر خارجہ نے کہا کہ خوشی ہےچیف جسٹس نے کرک مندر کا نوٹس لیا، وزیراعظم نے بھی کرک مندر واقعے کی مذمت کی ہے، ہم سب اس واقع کی مذمت کرتےہیں، وزیراعظم نے کہا ملوث عناصر کو عبرتناک سزادی جائے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم چاہتےہیں ہماری مساجدکااحترام کیاجائے، ہمیں مندر،گوردواروں، گرجاگھروں کا بھی احترام کرنا ہوگا، کرک واقعے کا نوٹس لیا گیا ہے امید ہے 4جنوری کورپورٹ پیش ہوگی، جواس طرح کی حرکات کرتے ہیں، وہ پاکستانی امیج کو نقصان پہنچاتے ہیں

Comments

یہ بھی پڑھیں