The news is by your side.

Advertisement

سعودی جیلوں میں 3400 پاکستانی قید ہیں، وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی

اسلام آباد: وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کا کہنا ہے سعودی جیلوں میں 3400 پاکستانی قیدہیں، سعودی حکام سےقیدیوں کی فہرست فراہم کرنے کی درخواست کی، ہمیں قیدیوں کی مانگی گئی معلومات کاانتظار ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نےسعودی عرب کی جیلوں میں پاکستانی قیدیوں سے متعلق تحریری جواب جمع قومی اسمبلی میں جمع کرادیا، جس میں کہا گیا سعودی جیلوں میں 3400 پاکستانی قیدہیں، سفارتخانہ2107سےپاکستانی قیدیوں کی رہائی کیلئےمصروف ہے۔

،وزیرخارجہ کا کہنا تھا سعودی ولی عہدکے دورے میں قیدیوں کی رہائی کا اعلان کیا تھا، سعودی حکام سے قیدیوں کی فہرست فراہم کرنے کی درخواست کی، ہمیں قیدیوں کی مانگی گئی معلومات کا انتظار ہے۔

یاد رہے چند روز قبل سعودی عرب میں پاکستانی سفیر راجہ علی اعجاز نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا سعودی ولی عہد کی جانب سے پاکستانیوں کی سعودی جیلوں سے رہائی کا عمل جاری ہے اور ہمیں رمضان کے مقدس مہینے میں اس اعلان کے حوالے سے کچھ اچھی اطلاعات ملنے کی توقع ہے۔

مزید پڑھیں : سعودی جیلوں سے پاکستانی قیدیوں کی رہائی، رمضان میں اچھی خبر ملنے کا امکان

پاکستانی سفیر کا کہنا تھا قیدیوں کی منتقلی کے معاہدے کے بارے میں بات چیت جاری ہے اور جب معاہدے پر دستخط ہوجائیں گے تو قیدی اپنی سزا اپنے ملک میں پوری کرنے کے اہل ہوجائیں گے۔

یاد رہے فروری میں سعودی ولی عہد محمدبن سلمان نے اپنے دورہ پاکستان میں وزیراعظم عمران خان کی درخواست پر سعودی عرب کی مختلف جیلوں میں قید 2107 پاکستانیوں کی فوری رہائی کا حکم دیا تھا۔

بعد ازاں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا تھا سعودی ولی عہد نے 2107 پاکستانی قیدیوں کی رہائی کا حکم دیا، سعودی حکومت باقی پاکستانیوں کے کیسز کا بھی جائزہ لےگی، پاکستان کے عوام ولی عہد محمد بن سلمان کے شکرگزار ہیں۔

خیال رہے وزیرِ اعظم ہاؤس میں عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے سعودی ولی عہد سے معمولی جرائم میں قید 3 ہزار پاکستانیوں کی رہائی کی اور اپنی سرزمین پرموجود پچیس لاکھ پاکستانیوں کو اپنا ہی سمجھنے کی درخواست کی تھی۔

جس کے جواب میں شہزادہ محمد بن سلمان نے وزیراعظم عمران خان کوہرممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان، آپ مجھے سعودی عرب میں پاکستانی سفیر سمجھیں، پاکستان کو نا نہیں کہہ سکتے، ہم سے جو کچھ ہوسکتا ہے کریں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں