سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر لائحہ عمل کا اعلان کریں گے: دفتر خارجہ -
The news is by your side.

Advertisement

سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر لائحہ عمل کا اعلان کریں گے: دفتر خارجہ

اسلام آباد: ترجمان دفترخارجہ نفیس زکریا کا کہنا ہے کہ بھارت کی آبی جارحیت کاجائزہ لے رہے ہیں۔ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی تو لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں ترمیم یا التوا ممکن نہیں۔ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی تو لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

ترجمان نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستانی سمندری حدود کی خلاف ورزی اقوام متحدہ کے چارٹر کے خلاف ہے۔ ایسا ملک جو عالمی معاہدوں کی پاسداری نہ کرے نیوکلیئر سپلائر گروپ کا رکن کیسے بن سکتا ہے۔

اس سے قبل وزیر اعظم کے معاون برائے خارجہ امور طارق فاطمی بھی کہہ چکے ہیں کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے میں کوئی تبدیلی قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کا اصولی مؤقف معاہدے کے مطابق ہے اور سندھ طاس معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عملدر آمد ہونا چاہیئے۔

خیال رہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے متعدد بار آبی جارحیت کے حوالے سے دھمکیاں سامنے آنے کے بعد پاکستان نے عالمی بینک سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ آبی تنازع کو حل کروانے میں کردار ادا کرے تاہم عالمی بینک نے اس معاہدے پر غیر جانبدار ثالثی سے معذرت کرلی تھی۔

مسئلہ کشمیر کے بارے میں نفیس زکریا کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم جاری ہیں۔ بھارت پر واضح کردیا ہے کہ مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر خطے میں امن بحال نہیں ہوسکتا۔ کشمیریوں کی جدوجہد اجاگر کرنے میں میڈیا کا کردار مثالی ہے۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ہمسایہ ممالک سے دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں