The news is by your side.

Advertisement

ہم مثبت پیغام لےکرجارہےہیں ، امید ہے بھارت بھی مثبت قدم آگے بڑھائے گا، ڈاکٹر فیصل

خطے میں امن کی خاطر آج میٹنگ کیلئے جا رہے ہیں

لاہور : ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر فیصل کا کہنا ہے کہ کرتارپورراہداری پراجلاس وزیراعظم کےوژن کاعکاس ہے، خطے میں امن کی خاطر آج میٹنگ کیلئے جا رہے ہیں، مثبت پیغام لےکرجارہےہیں ، امید ہےبھارت بھی مثبت قدم آگے بڑھائے گا۔

تفصیلات کے مطابق ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر فیصل نے بھارت روانگی سے قبل واہگہ بارڈر پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہم مذاکرات کےلیےمثبت پیغام لےکر جارہے ہیں ، امید ہے بھارت بھی مثبت قدم آگے بڑھائے گا۔

کرتارپورراہداری پراجلاس وزیراعظم کےوژن کاعکاس ہے

ڈاکٹرفیصل کا کہنا تھا کہ پاکستان نے کرتارپور راہداری کھولنے کا فیصلہ کیا، کرتارپور راہداری  پراجلاس وزیراعظم کے وژن کاعکاس ہے، ہماری میٹنگ کرتارپور راہداری کھولنے سے  متعلق ہے۔

دفترخارجہ کے ترجمان نے کہا پاک بھارت کشیدگی میں کمی خطے کے امن کے لیے ضروری  ہے،  شجر ایسا اپنے آنگن میں لگایاجائے، جس کا ہمسائے کے آنگن میں سایہ جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے 28 نومبر کو کرتار پور راہداری کی بنیاد رکھی، آج 18رکنی وفد مذاکرات کے لیے بھارت روانہ ہورہا ہے، خطے میں امن کی خاطر آج پہلی اجلاس کے لیےجا رہے ہیں، ملاقات میں گفتگوصرف کرتار پور راہداری کے حوالے سے ہوگی۔

ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ ہمارا ایجنڈا کرتار پور کو کھولنے کے حوالے سے ہے، وزیر اعظم اور آرمی چیف نے کرتار پور راہداری پر بات کی تھی ، آج اس بات کو حتمی شکل دینے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں : کرتارپور راہداری: پاکستانی وفد کا بھارت جانا ہمسائے کے ساتھ اچھے تعلقات کی طرف قدم ہے، دفتر خارجہ

گذشتہ روز ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ کرتارپورراہداری،پاکستان وفدکاجانامثبت ہم سائیگی کی طرف قدم ہے، ہم ایک مثبت پیغام کے ساتھ جارہے ہیں، جانا دہلی تھا تاہم بھارتی حکومت کی درخواست پراٹاری میں میٹنگ ہورہی ہے۔

ترجمان نے کہا تھا پاکستان کاوفدجامع ہےجس میں تکینکی،سول دونوں کی نمائندگی ہے، کل کی ملاقات کرتارپور راہداری سے متعلق پہلا سلسلہ ہوگی، امید کرتے ہیں بھارت بھی آگے قدم بڑھائے گا، پاکستانی وفد کا جانا وزیراعظم کے وژن اور سپرٹ کا عکاس ہے۔

واضح  رہے کرتارپورراہداری پر وزارت خارجہ کی سطح پرپاک بھارت مذاکرات آج ہوں گے، پاکستانی وفد کی قیادت دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل کریں گے۔

مذاکرات پاک بھارت سرحدی علاقے اٹاری میں ہوں گے ، جس میں کرتارپور راہداری کے حوالے سے بات چیت ہو گی جبکہ مذاکرات کے بعد پاکستانی وفد واہگہ بارڈر پر پیشرفت سے آگاہ کرے گا۔

خیال رہے کہ کرتارپور راہ داری پر مذاکرات کی کوریج کے لیے پاکستان نے بھارت کو پاکستانی صحافیوں کو ویزا دینے کی درخواست کی تھی جسے انڈیا نے مسترد کر دیا، جس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے اس اقدام کو افسوس ناک قرار دیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں