site
stats
سندھ

کراچی، سندھ لوک میلے کا شاندار آغاز

کراچی : صوبائی وزیرِ ثقافت، سیاحت و نوادرات سید سردار علی شاہ نے کہا ہے کہ ثقافتیں مختلف قوموں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملاتی ہیں اور سندھ کی ثقافت میں وہ تمام رنگ موجود ہیں جو وری دنیا کو اپنے ساتھ جوڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج نیشنل میوزیم میں منعقدہ دو روزہ سندھ فوک فیسٹیول کی افتتاح کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کیا صوبائی وزیر نے کہا کہ فوک فیسٹول کے ذریعے سندھ کی ثقافت کو اجاگر کیا گیا اور ثقافت میں زبان، ادب اور موسیقی کے علاوہ ہینڈی کرافٹس بھی شامل ہیں جن کو یہاں اسٹالز میں نمایاں پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔

folk-festiva-post-2

وزیرِ ثقافت و سیاحت سید سردار علی شاہ نے بتایا کہ محکمہء ثقافت ہاتھ کے ہنر اور سندھ کی قدیمی ہینڈی کرافٹس کی پذیرائی کرتا رہے گا کیونکہ کہ اگر ان چیزوں کو پسماندگی میں دکھیل دیا گیا تو ہمیں خدشہ ہے کہ صوبے کی ثقافت کی قدیمی روایات مستقبل میں اپنا اصل رنگ کھوبیٹیں گی۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی خطے کی ثقافت اپنے اندر گوناگوں وسعت رکھتی ہے اور یہی دنیا کی ثقافتیں سمندر کی طرح نفرتوں کو بہا لے جائیں گی اس چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے محکمہ ثقافت کی جانب سے جامشورو میں سندھ انسٹیٹیوٹ آف میوزک اینڈ پرفارمنگ آرٹ قائم کیا جا رہا ہے جوکہ امید ہے کہ اگست سے فعال ہو جائے گا۔

folk-festiva-post-1

انہوں نے مزید بتایا کہ فنڈز فار موہن جو دڑو اور محکمہء ثقافت، سیاحت و نوادرات کی جانب سے 9 فروری سے تین روزہ موہن جو دڑو عالمی کانفرنس کا انعقاد کیاجا رہا ہے ، جس میں کئی ممالک سے بہت سے محقیقن ، وفود اور اسکالرز شرکت کریں گے اور اپنے مقالے پیش کریں گے جس کی روشنی میں آثارِ قدیمہ کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

قبل ازیں صوبائی وزیرِ ثقافت سردار شاہ اور امریکی قونصل جنرل کیرل گریس شیلٹن کے ہمراہ سندھ فوک فیسٹیول کا افتتاح کیا اور میلے میں لگائے گئے اسٹالز کا دورہ کیا اور ہنر مندوں سے بات چیت کی۔

اس موقعہ پر فوک فیسٹیول لگائے گئے اسٹالز پر ہنرمندوں نے برائے راست قونصل جنرل اور وزیر ثقافت کے سامنے اپنے فن کا بھی مظاہرہ کیا اور سندھ کے دستکاری کے شاہکار نمونے بنتے ہوئے دکھائے۔

دونوں رہنماؤں نے فوک فیسٹیول میں لگائے گئے اسٹالز جن میں لیدر ورک، سندھی ٹوپی، سندھی ایمبرائڈری، رلھی، کھیس، لنگی، تھری چرکھو، تھری ایمبرائڈری، بلیو کاشی، اجرک، جنڈی، کھادی، سوسی، پاٹری، وڈ ورک، تھری ایمبرائڈری، چوڑیاں، چنری، گلاس اینڈ وڈ ورکس، پینٹنگ، کلچرل موڈلز، ماوا، آچار، اسکلپچراور دیگر اسٹالز کا دورہ کیا۔

امریکی قونصل جنرل نے خصوصی طور پر تھری چرکھو اور کھیس اور لنگی کے اسٹال میں گہری دلچسپی لی اور ہنرمند عورت کے ساتھ وہ خود آڈانو چلانے بیٹھ گئیں اور ان سے ہاتھ سے کپڑا بننے کے ہنر کے بارے میں سوالات کیے۔

بعد ازاں فوک فیسٹیول میں سندھ کے روایتی رقص اور فنِ موسیقی کا مظاہرہ کیا گیا اور مختلف فنکاروں فہیم علن، تاج مستانی، خوشبو لغاری، شوکت، ساون اور مارئی نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا جب کے مختلف سازندوں نے جن میں سرندو، مرلی الغوزہ، بینسری وغیرہ نے لوک دھنیں پیش کر کے حاضرین کو بے حد متاثر کیا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top