The news is by your side.

Advertisement

فٹبال کا بخار، ایرانی حکومت نے 39 برس بعد خواتین کے لیے قانون میں‌ نرمی کردی

تہران: ایران کی حکومت نے فٹبال ٹیم کی پہلے میچ میں کامیابی کے بعد خواتین کو  بڑا تحفہ دینے کا اعلان کردیا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ایران اور اسپین کے مابین 20 جون کی رات ساڑھے دس بجے کھیلے جانے والے میچ کو دیکھنے کے لیے آزادی اسٹیڈیم میں خصوصی انتظامات کیے جائیں گے۔

ایران میں 1979 کو  آنے والے اسلامی انقلاب کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا کہ خواتین بھی اسٹیڈیم جاکر میچ دیکھ سکیں گی، انتظامیہ کی جانب سے گراؤنڈ میں بڑی اسکرین نصب کی جائے گی جبکہ ایک لاکھ شرکاء کے بیٹھنے کے لیے بھی انتظامات کیے جائیں گے۔

صوبائی حکومت نے یہ فیصلہ پہلے میچ میں فتح کے بعد کیا، فیفا ورلڈ کپ کا آغاز ہونے کے دوسرے روز ایران اور مراکش کی ٹیمیں مدمقابل تھیں جس میں تہران نے 1 گول سے مقابلہ اپنے نام کیا تھا۔

مزید پڑھیں: فیفا ورلڈ کپ 2018: یوروگوائے اور ایران کا فاتحانہ آغاز

ٹیم کی کامیابی کے بعد ایران کے مختلف علاقوں میں فٹبال کے مداح گلیوں میں نکل گئے تھے اور انہوں نے فتح پر خوب جشن منایا تھا، حیران کُن طور پر اس میں خواتین کی بھی بڑی تعداد شامل تھی جو اپنی ٹیم کی جیت پر خوشی سے نہال نظر آرہی تھی۔

مقامی انتظامیہ کی جانب سے پہلے میچ کے لیے اسٹیڈیم میں اسکرین لگانے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم بعد میں مذہبی جماعتوں کی تنقید کے بعد حکومت نے اسے واپس لے لیا تھا جس کے بعد سینیما گھروں میں بڑی تعداد میں شائقین نے مقابلہ دیکھا تھا۔

اسے بھی پڑھیں: ایران: مردوں کے بھیس میں فٹبال میچ دیکھنے والی 8 خواتین گرفتار

ایرانی میڈیا کے مطابق بدھ 20 جون کو ہونے والے میچ کو دیکھنے کے لیے ایک لاکھ افراد کی آمد متوقع ہے جس کے لیے سیکیورٹی کے بھی خصوصی اقدامات کیے جائیں گے۔

ایران میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی رکن پارلیمنٹ طیبیہ سیوشی کا کہنا ہے کہ ’حکومت کی جانب سے یہ اعلان خوش آئند ہے اور امکان ظاہر کیا جاسکتا ہے کہ اب ہمارے یہاں پالیسی تبدیل ہونے جارہی ہے’ْ


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں