اسلام آباد (05 مارچ 2026): وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان سے چمڑے اور فٹ ویئر صنعت کے ایک وفد نے ملاقات کی، جس میں فٹ ویئر سیکٹر کے برآمدی امکانات اور درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران وفد نے بتایا کہ پاکستان میں فٹ ویئر کی سالانہ کھپت تقریباً 55 کروڑ جوڑے ہے، جب کہ ملک میں پیداواری صلاحیت تقریباً 70 کروڑ جوڑوں تک ہے، اس کے باوجود مقامی صنعت کو استعمال شدہ جوتوں کی درآمدات کے باعث سخت مسابقت کا سامنا ہے۔
وفد کے مطابق مقامی مارکیٹ کا تقریباً 30 سے 40 فی صد حصہ استعمال شدہ جوتوں کی درآمدات سے پورا ہو رہا ہے۔ وفد نے اس موقع پر استعمال شدہ جوتوں کے لیے علیحدہ ایچ ایس کوڈ متعارف کرانے کی تجویز بھی پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت استعمال شدہ جوتے استعمال شدہ کپڑوں کے زمرے میں درآمد ہوتے ہیں جس کے باعث درست ویلیوایشن کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
وزارتِ تجارت کے جوائنٹ سیکریٹری نے بتایا کہ علیحدہ ایچ ایس کوڈ کی تجویز کو ٹیرف پالیسی بورڈ کے آئندہ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کر لیا گیا ہے، مشاورت اور منظوری کے بعد یہ تجویز آئندہ وفاقی بجٹ کا حصہ بن سکتی ہے۔
پیٹرول کی قیمتوں کا ‘ کورونا دور’ والا فارمولا واپس ! اب قیمتیں کتنے دن میں تبدیل ہوں گی؟
اس موقع پر وزیرِ تجارت جام کمال خان نے فٹ ویئر صنعت پر زور دیا کہ وہ برآمدات میں اضافہ کرے اور عالمی منڈیوں میں پاکستان کی موجودگی کو مزید مضبوط بنائے۔ انھوں نے کہا کہ مقامی طور پر تیار کردہ جوتے مقامی مارکیٹ میں مناسب قیمت پر دستیاب ہونے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور صنعت کے درمیان قریبی تعاون سے فٹ ویئر سیکٹر کی برآمدی صلاحیت کو مزید فروغ دیا جائے گا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


