The news is by your side.

Advertisement

وائرس کا پھیلاؤ، کرونا مریض کتنے دن تک دوسروں کے لیے خطرناک ہوتے ہیں؟

طب کی دنیا میں ہونے والی نئی تحقیق میں دریافت کیا گیا ہے کہ کرونا متاثرہ مریض علامات ظاہر ہونے کے بعد 5 دن تک دوسروں کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔

طبی جریدے دی لانسیٹ میں شایع ہونے والی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کووڈ 19 سے متاثر مریض علامات نظر آنے کے بعد اولین 5 دنوں تک سب سے زیادہ متعدی ہوتے ہیں جس سے دیگر افراد وائرس کی لپیٹ میں آسکتے ہیں۔ جبکہ کرونا کے بغیر علامات والے مریضوں کے جسم میں یہ وائرس ممکنہ طور پر زیادہ تیزی سے کلیئر ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق بغیر علامات والے مریض بھی دوسروں کو متاثر کرسکتے ہیں لیکن ان میں وائرس بہت کم وقت تک متعدی رہتا ہے، اس ریسرچ کے لیے ماہرین نے کرونا وائرس کی منتقلی کے حوالے سے ہونے والی 98 تحقیقی رپورٹس کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا، اس دوران مریضوں میں 3 بنیادی عناصر کو دیکھا گیا جن میں وائرل لوڈ، وائرس کے آر این اے کا جھڑنا اور زندہ وائرس کو الگ کرنا شامل رہا بعد ازاں محققین نے نتائج اخذ کیے۔

اس تحقیق میں سائنس دانوں نے مختلف تحقیقی رپورٹس کے نتائج کا موازنہ کروناوائرس کی دیگر 2 اقسام کے ساتھ کیا جس سے ماہرین نے دریافت کیا کہ کرونا کا وائرل لوڈ بیماری کے آغاز پر نظام تنفس کی اوپری نالی میں علامات کے نمودار ہونے کے بعد اولین 5 دن تک عروج پر ہوتا ہے اور اوپری نالی کو وائرس کے پھیلاؤ کا اہم ذریعہ تصور کیا جاتا ہے۔

جبکہ کرونا کے دیگر دو اقسام(سارس اور مرس) میں مریض میں وائرل لوڈ بالترتیب 10 سے 14 جبکہ 7 سے 10 دن تک عروج پر رہتا ہے، محققین کا کہنا ہے کہ وائرس کی ایک سے دوسرے میں منتقلی کے اکثر واقعات بیماری کے آغاز میں ہی ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ علامات ظاہر ہوتے ہی خود ساختہ آئسولیشن اختیار کرلینی چاہیے۔

ماہرین نے بتایا کہ علامات اور بغیر علامات والے مریضوں میں وائرل لوڈ تقریباً یکساں ہوتا ہے لیکن بغیر علامات والے مریض جسموں سے وائرل مواد تیزی سے ہٹاتے یا ختم کرتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں