The news is by your side.

Advertisement

چلتے ہیں چین کے طلسماتی ’ممنوعہ‘ شہرمیں

تحریر:وقاراحمد


ثقافتی مقامات کو زندہ رکھنے والے ممالک کی فہرست میں چین دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر ہے۔ یونیسکوکے مطابق چین میں 53ایسے مقامات ہیں جو صدیوں پرانے لیکن اپنی اصل حالت میں آج بھی موجود ہیں۔

انہی صدیوں پرانے مقامات میں ایک ’شہر ممنوعہ‘ بھی ہے ۔آئیں آج آپ کو سیر کرائیں چین کے اس شہر کی جہاں کی سیر کرنا 600سال تک ممنوع رہاکیونکہ اس شہر میں قائم ہے دنیا کا سب سے بڑا محل جو صرف ایک بادشاہ کی خواہش کی تکمیل کیلئے 10لاکھ مزدوروں نے مل کربنایا تھا۔

اس بادشاہ کا نام تھا ’کنگ ژوڈی‘ اور یہ چین کی مِنگ سلطنت کا چشم و چراغ تھا اور اس کا بنایا ہوا یہ محل قِنگ سلطنت تک قریباً چھ سو سال تک حکمران خاندان کی ملکیت رہا لیکن سلطنت کے خاتمے کے بعد یہ محل چینی حکومت کے کنٹرول میں آگیا۔یہ شہر بیجنگ کے بالکل وسط میں قائم کیا گیا ہے جس میں 980 بڑی عمارات اور 1000 پرتعیش کمرے موجود ہیں۔

ژوڈی کا شمار چین کے چند طاقتور ترین بادشاہوں میں ہوتا ہے جس کا خاندان 600سال تک چین پر حکمرانی کرتا رہا لیکن ژوڈی کو اس کی رعایا حکمران سے زیادہ خدا مانتی تھی جو ان کے مطابق اپنی رعایا اور درباریوں کی زندگی اور موت کا فیصلہ کرتا تھا ،ژوڈی کو چین کے لوگ جنت کا بیٹا کہا کرتے تھے۔ ژوڈی نے دنیا کا یہ سب سے بڑا محل چنگیز خان کے پوتے قبلائی خان کا بیجنگ میں قدیم محل مسمار کرکے بنوایا تھا۔

نانجنگ میں منگولوں کے پے درپے حملوں سے تنگ آکر کنگ ژوڈی نے نانجنگ چھوڑنے اور بے ژنگ (بیجنگ) منتقل ہونے کا فیصلہ کیا ۔1406ءمیں ژوڈی اپنے اہل و عیال اور مال و متاع سمیت بے ژنگ منتقل ہوا ۔بے ژنگ میں قبلائی خان کا ایک محل شہر کے عین وسط میں موجود دیکھ کر ژوڈی نے یہیں رہائش کا فیصلہ کیا اور حکم دیا کہ قبلائی خان کا محل مسمار کرکے نیا شہر آباد کیا جائے۔

اس مقصد کیلئے 1407ءمیں پرانے محل کو ریزہ ریزہ کرکے اسی کی باقیات پر نئے محل کی تعمیر شروع کردی گئی۔1000کمروں پر مشتمل عالیشان محل کی تیاری کیلئے چین بھر سے 10لاکھ انتہائی ماہر اور جوان مزدور اکٹھے کئے گئے جنہوں نے مسلسل 14سال کی انتھک محنت کے بعد کنگ ژوڈی کے خواب کو فنِ تعمیر کے اس شاہکار کی صورت میں حقیقت کا روپ دیا۔1421ءمیں اس محل کی تعمیر مکمل ہوئی توبادشاہ کے حکم پر اس کے گرد اونچی اور مضبوط چاردیواری قائم کرکے اسے یعنی شہر ممنوعہ قرار دیدیا گیا ۔

مجھے 2دسمبر کی صبح اس شہرممنوع میں قدم رکھنے کا اتفاق ہوا،یہ واقعی شہر کے اندر قائم ایک الگ شہر ہے جس میں 100فٹبال گراؤنڈ باآسانی سما سکتے ہیں،آپ کو پورا محل دیکھنے کیلئے کم سے کم 2دن درکار ہوں گے،کاریگروں کی مہارت اور فن تعمیر پر عبور دیکھ کر آپ عش عش کراٹھیں گے۔اس شہر ممنوع میں رائل فیملی کے علاوہ کسی کو داخلے کی اجازت نہیں تھی البتہ سال ِنو کی تقریب کیلئے شہری اس شہر میں داخل ہوسکتے تھے ۔اس کے علاوہ غلطی سے بھی شہر میں داخل ہونے والوں کیلئے موت کی سزامقرر تھی ۔

اس شہر کی تعمیر کیلئے 10سال تک لکڑی اور سنگ مرمر جمع کیا جاتا رہا۔300ٹن وزنی سنگ مرمر کے پتھروں کو چین کے کونے کونے سے گھوڑا گاڑیوں کے ذریعے بے ژنگ لایا گیا۔لکڑی اور پتھر جمع کرکے نیا شہر آباد کرنیوالے تمام مزدوروں کے ناموں کی فہرست آج بھی محل میں موجود ہے۔بادشاہ ژوڈی کیلئے اس شہرمیں کئی تخت بھی بنائے گئے ہیں جن میں زیادہ تر سونے سے بنے ہیں اور آج بھی محل میں موجود ہیں۔ان تختوں پر ڈریگن بنائے گئے ہیں جو کہ چین میں طاقت کی علامت سمجھے جاتے ہیں،یہ ڈریگن درحقیقت محل میں ہر جگہ کندہ اور تعمیر ہیں۔

آپ محل میں کہیں بھی چلے جائیں یہ ڈریگن آپ کے ساتھ ساتھ چلیں گے یہاں تک کہ رائل فیملی کے کپڑوں اور برتنوں پر بھی ڈریگنز کی تصاویر موجود ہیں، محل میں ڈریگن نما 1000پرنالے بھی بنائے گئے ہیں جو بارش کے پانی کی نکاسی کرتے ہیں انہیں دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ شایدیہ فرضی جانور حقیقت میں یہاں موجود ہوں۔شہرممنوع میں داخل ہونے کیلئے 3مرکزی دروازے ہیں جن میں سب سے بڑے دروازے کی لمبائی 12منزلہ عمارت سے بھی زیادہ ہے۔ان میں سے عام دروازہ تیانمن دروازہ ہے جو سیاحوں کیلئے روز کھلتا ہے۔

بادشاہ ژوڈی رات کے تین بجے دربار لگانے کا عادی تھا اور درباری اسی تیانمن دروازے سے داخل ہوکر بادشاہ کے پاس پہنچتے،انہیں ملکی حالات اور مسائل سے آگاہ کرتے تھے۔ دربار کے دوران کھانسنے اور آپس میں باتیں کرنے پر اذیت ناک سزائیں دی جاتی تھیں۔ محل میں رائل فیملی کی خواتین کیلئے بھی انتہائی خوبصورت مقام قائم کیا گیا ہے ،رہائش کیلئے 12وسیع و عریض کمرے ہیں جن میں بادشاہ کے علاوہ کسی کو داخلے کو اجازت نہیں تھی یہاں تک کہ خواتین ملازمائیں بھی ان کمروں کے قریب نہیں بھٹک سکتی تھیں۔

بادشاہ ژوڈی سمیت اس کے خاندان کے تمام بادشاہوں کی کئی کئی بیگمات اور بچے ہوا کرتے تھے۔17ویں صدی کے بادشاہ کنگ لوئی کی 13سے 17سال کے درمیان کی سب سے زیادہ 38بیگمات تھیں۔کنگ لوئی 60سال تک چین پر حکمران رہا۔اس کی سلطنت کے خاتمے کے بعد آسمانی بجلی گرنے سے محل میں شدید آگ لگی اور محل کا ایک بڑا حصہ جل کر خاکستر ہوگیا جسے بعد میں پورے ملک سے ماہر کاریگر منگوا کر دوبارہ تعمیر کروادیا گیا۔

بیس ویں صدی کے وسط میں چین میں انقلاب کے بعد شہرممنوع اب مزید ممنوع نہیں رہا اور اسے عجائب گھر بنا دیاگیا اورشہر کی تعمیر کے 600سال مکمل ہونے پر اسے عوام کی سیروتفریح کیلئے کھول دیا گیا یونیسکو نے اس محل کو دنیا کا قدیم ترین ثقافتی سٹرکچر قراردیاہے اور اب ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر سے سالانہ 80لاکھ سیاح اس قدیم شہر کی سیر کیلئے بیجنگ آتے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں