منگل, ستمبر 8, 2026
اشتہار

’’مردوں کیلیے خواتین کا لباس پہننا حرام قرار‘‘ علما کونسل کا فتویٰ

اشتہار

حیرت انگیز

جکارتہ (11 اگست 2026): انڈونیشیا کی علما کونسل نے مردوں کے لیے خواتین کا لباس پہننا حرام قرار دے دیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسلامی ملک انڈونیشیا کی با اثر اسلامی تنظیم انڈونیشین علما کونسل نے مردوں کے لیے خواتین کا لباس زیب تن کرنے کو شرعی اعتبار سے حرام قرار دیا ہے۔

کونسل کے فتوٰی کمیشن نے کہا کہ مردوں کا خواتین کا لباس پہننا شریعت اور معاشرتی اقدار کی خلاف ورزی کا باعث بن سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا میں ہر سال 17 اگست کو یومِ آزادی منایا جاتا ہے اور اس موقع پر ملک بھر میں مختلف تفریحی مقابلوں، کھیلوں اور پریڈز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

ان تقریبات میں بعض علاقوں میں ایک پرانی اور مقامی روایت کے تحت مرد خواتین کے ملبوسات، حتیٰ کہ حجاب پہن کر فٹ بال کھیلتے ہیں۔ یہ سرگرمی عام طور پر تفریح اور مزاح کے طور پر کی جاتی ہے اور اسے صنفی شناخت کے اظہار کے بجائے یومِ آزادی کی تقریبات کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

تاہم انڈونیشین علما کونسل نے حالیہ بیان میں اس روایت پر اعتراض کیا ہے۔

علما کونسل نے اپنے بیان میں کہا کہ اس اقدام کا مقصد لیزبین، گے، سوڈومی اور فحاشی سے متعلق تحریک کی مبینہ سرگرمیوں کو روکنا ہے۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں