The news is by your side.

Advertisement

متنازع قانون، لاکھوں‌ غیر ملکی سیاح بھارت کو غیر محفوظ سمجھنے لگے

دو ہفتوں میں ڈھائی لاکھ سیاحوں نے تاج محل کا دورہ منسوخ کیا

نئی دہلی: بھارتی حکومت کو شہریت کے متنازع قانون میں ترمیم اس قدر مہنگی پڑ گئی کہ اس کی وجہ سے غیر ملکی سیاحوں نے بھی بھارت آنا چھوڑ دیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارت میں متنازع شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف جاری مظاہروں اور احتجاج کی وجہ سے سیاحت کی صنعت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے۔

بھارتی حکام کے مطابق گزشتہ 15 روز کے دوران دو لاکھ ملکی و غیر ملکی سیاحوں نے تاج محل کا دورہ منسوخ یا ملتوی کیا جس کی وجہ سے سیاحت کے شعبے کو نقصان اٹھانا پڑا۔

خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق تاج محل کے قریب واقع اسپیشل ٹورسٹ پولیس اسٹیشن کے آفیسر دنیش کمار نے تصدیق کی کہ رواں سال دسمبر میں سیاحوں کی آمد میں 60 فیصد کمی ہوئی، بیرونِ ملک سے آنے والے شہری پولیس ہیلپ لائن پر کال کر کے معلومات لیتے ہیں اور یقین دہانی کے باوجود بھی وہ اس طرف نہیں آتے۔

مزید پڑھیں: متنازع قانون، بھارت کے طول وعرض میں آگ لگ گئی، 30 ہلاکتیں

دوسری جانب یورپ سے بھارت پہنچنے والے سیاحوں نے بھی اپنے دورے کو مختصر کر کے فوری واپسی کا فیصلہ کرلیا۔ غیر ملکی سیاحوں کا کہنا ہے کہ آگرہ سمیت مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس پر پابندی ہے جس کی وجہ سے ہمیں شدید تحفظات ہیں۔

آگرہ ٹورازم ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے صدر کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کی بندش نے سیاحوں کو خوفزدہ کررکھا ہے جبکہ مختلف علاقوں میں ڈنڈا بردار پولیس کو دیکھ کر سیاح خوف کا شکار ہیں۔ بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق ہر سال 65 لاکھ سے زائد سیاح تاج محل کا دورہ کرتے ہیں جس سے حکام کو ایک کروڑ چالیس لاکھ ڈالر سالانہ آمدنی ہوتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں