قانون میں ممنوعہ فنڈنگ ضبط کرنے کا ذکر ہے،نااہلی کانہیں، سپریم کورٹ -
The news is by your side.

Advertisement

قانون میں ممنوعہ فنڈنگ ضبط کرنے کا ذکر ہے،نااہلی کانہیں، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نےعمران خان نااہلی کیس اور پارٹی فنڈنگ کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون میں ممنوع فنڈنگ ضبط کرنے کا ذکر ہے، نااہلی کانہیں، حکومت غیرملکی فنڈنگ کی تحقیقات خود کیوں نہیں کرتی؟ ہمارا کام تحقیقات کرنا نہیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں عمران خان ناہلی کیس کی سماعت ہوئی، درخواست گزارحنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اثاثے چھپانے کامعاملہ عوامی نمائندگی ایکٹ کےتحت آتا ہےاور غلط سرٹیفکیٹ دینا بھی نااہلی کاسبب بنتا ہے۔

اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے جمعے کو وزیراعظم کو تنخواہ ظاہر نہ کرنے پرفارغ کیا جس پرچیف جسٹس نےکہا کہ عدالت اس پرکوئی کمنٹ نہیں کر رہی تاہم اگرکاغذات نامزدگی میں اثاثے ظاہر نہیں کیے تو نااہلی ہی بنتی ہے۔

پی ٹی آئی کے وکیل انورمنصور نےکہا کہ یہ بات درست ہے کہ ایل ایل سی تحریک انصاف امریکا کی ایجنٹ ہے جس پرچیف جسٹس نےاستفسار کیا کہ کیا یہ پی ٹی آٰئی پاکستان کیلیے فنڈ ریزنگ کرتی ہے؟ ایل ایل سی ممنوعہ ذرائع سے فنڈز وصول کرسکتی ہے؟

چیف جسٹس نے کہا کہ درخواست گزار کےمطابق آپ کارپوریشنز سے بھی رقم وصول کرتےہیں، کیا فارا کو آپ نے معلومات دیں، جس پر انور منصور نے عدالت کو بتایا کہ فارا کو معلومات دینا ان کا کام نہیں۔

انورمنصور نے کہا کہ ایجنٹ اطلاع دیتا ہے کہ فنڈز قانون کے مطابق اکٹھے کیے، عمران خان نے سرٹیفکیٹ ایجنٹ کی یقین دہانی پر دیا۔ عدالت نے کیس کی سماعت بدھ دواگست تک ملتوی کردی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں