نون لیگ نے ساڑھے4 سال میں 43 ارب ڈالر کاغیر ملکی قرضہ حاصل کیا
The news is by your side.

Advertisement

مسلم لیگ ن نے ساڑھے4 سال میں 43 ارب ڈالر کاغیر ملکی قرضہ حاصل کیا

اسلام آباد : نون لیگ نے ساڑھے چار سال میں تینتالیس ارب ڈالر کا غیر ملکی قرضہ حاصل کیا جبکہ عالمی بینک سمیت دیگر اداروں سے پندرہ ارب ڈالر کے قرضے حاصل کئے گئے۔

تفصیلات کے مطابق نواز حکومت کا ایک اور کارنامہ، حکومتی اعداد و شمار نے بھی تصدیق کردی، قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر دوہزار سترہ کے اختتام تک نون لیگ نے چالیس ارب ڈالر کا قرضہ لیا ۔

اس قرضے میں آئی ایم ایف سے لیا گیا چھ ارب بیس کروڑ ڈالر کا قرضہ بھی شامل ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق اس قرضے میں نومبر میں کی گئی ڈھائی ارب ڈالر کی بانڈز کی فرو خت شامل نہیں، بانڈز کی فروخت شامل کرکے غیر ملکی قرضوں کاحجم تینتالیس ارب ڈالر ہو جائےگا۔

عالمی بینک،ایشیائی ترقیاتی بینک اور اسلامی ترقیاتی بینک سے حکومت نے چودہ ارب نوے کروڑ ڈالر کا قرضہ حاصل کیا گیا۔

حکومت کی جانب سے دوہزار تیرہ سے اب تک تئیس ارب بیس کروڑ ڈالر کے قرضے واپس بھی کئے ہیں جبکہ مقامی طور پر لیا گیا قرضےان تینتالیس ارب ڈالر کے علاوہ ہے۔

دوسری جانب ذرائع وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ حکومت کو6 ماہ میں 4 ارب 30کروڑڈالرقرض اداکرناہے، 3 ارب30کروڑاصل جبکہ ایک ارب ایک کروڑ ڈالر سود ادا کرناہ ے جبکہ ادائیگیوں میں بانڈزپر31کروڑڈالرسود شامل ہے۔


مزید پڑھیں : نئی آنے والی حکومت کو 25ارب ڈالر کا قرضہ اتارنا ہوگا


ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلامک بینک کو 39کروڑ ڈالر کا مختصر مدتی قرض واپس کیا جانا ہے، عالمی بنک، اے ڈی بی، اوپیک و دیگر کو ایک ارب 30کروڑ ڈالر ادا کرنے ہیں جبکہ چین،فرانس،جرمنی ودیگرممالک کوایک ارب63کروڑڈالر ادا کرنے ہیں۔

خیال رہے کہ سال 2018 میں بننے والی نئی حکومت کو مجموعی طور پر پچیس ارب ڈالر کے قرضے اتار نے ہونگے۔

قرضوں کی واپسی کے حکومتی شیڈول کے مطابق پہلے سال چار ارب چھپن کروڑ ڈالر ، دوسرے سال چار ارب چھیاسی کروڑ ڈالر ، تیسرے سال چھ ارب تریپن کروڑ ڈالر ،چوتھے سال تین ارب نوے کروڑ ڈالر جبکہ پانچویں سال پانچ ارب پندرہ کروڑ ڈالر ادا کرنے ہونگے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں