site
stats
پاکستان

بھارتی جارحیت : ڈی جی ایم او کی مختلف ممالک کے سفیروں کو بریفنگ

اسلام آباد : پاکستان نے بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن پر سیز فائر کی خلاف ورزیوں کا معاملہ اقوام متحدہ کے مستقل اراکین کے سامنے اٹھا دیا، دفترخارجہ میں ڈی جی ایم او نے سلامتی کونسل کے مستقل ارکان ممالک کے سفیروں کو بریفنگ دی۔

تفصیلات کے مطابق دفترخارجہ میں ڈائرکٹر جنرل مکلٹری آپریشن نے مختلف ممالک کے سفیروں کو اب تک بھارت کی جانب سے کی جانے والی ریاستی دہشت گردی اور پاک بھارت سرحدی خلاف ورزیوں کے بارے میں آگاہ کیا، اور پاک فوج کی جوابی کاروائیوں سے متعلق بھی تفصیلی بریفنگ دی۔

سیکریٹری خارجہ اور ڈی جی ایم او کی جانب سے سلامتی کونسل کے مستقل ارکان ممالک کے سفیروں کو بریفنگ کے موقع پرامریکا ،چین، روس، برطانیہ اور فرانس کے سفیر موجود تھے۔

ڈی جی ملٹری آپریشن نے اپنی بریفنگ میں بھارت کے سرجیکل اسٹرائیک کے بھونڈے دعوے کو مسترد کردیا، بریفنگ میں بتایا گیا کہ 28 اور 29 ستمبر کی درمیانی شب بھارتی افواج نے ایل او سی کے مختلف پوائنٹس پر بلااشتعال فائرنگ کی،

ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارتی فائرنگ کے نتیجے میں دو پاکستانی فوجی جوان شہید ہوئے، بعد ازاں پاکستانی افواج نے بھرپور جوابی کارروائی کی

غیر ملکی سفیروں کو خاردار تاروں، بارڈر فورس، بنکرز اور دیگر رکاوٹوں سے بھی آگاہ کیا گیا، ترجمان سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے سفیروں کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بھی بریفنگ دی،

ڈی جی ایم او نے بریفنگ میں بتایا کہ بھارت مسلسل ایل او سی پرسیز فائر کی خلاف ورزی کر رہا ہے، انہوں نے بتایا کہ سرجیکل اسٹرائیک کا بھارتی دعویٰٰ جھوٹ کا پلندہ ہے۔

بھارت نے فائرنگ میں پہل کی جس کا پاکستان نے بھرپور جواب دیا، بریفنگ کے دوران سیکریٹری خارجہ اعزازچوہدری نے بتایا کہ بھارت کشمیر اورپاکستان میں ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے۔

عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم بند کرائے، اعزاز چوہدری کا کہنا تھا کہ سیزفائر کی خلاف ورزیوں پرشدید تحفظات ہیں۔

بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی کر رہا ہے، انہوں نے بتایا کہ بھارت اس طرح کی کارروائیاں کر کے مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم اور جبر سے دنیا کی توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔

ترجمان نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی غیر سنجیدگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا، ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان خود دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار ہے، انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کے مستقل ممالک خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔

 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top