The news is by your side.

Advertisement

شکیل آفریدی کے معاملے پر کوئی ڈیل نہیں ہو رہی: دفتر خارجہ

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ شکیل آفریدی کے معاملے پر کوئی ڈیل نہیں ہو رہی، حسین حقانی سے تبادلے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مسئلہ کشمیر کا واحد حل مذاکرات ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے ہفتہ وار بریفنگ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر پر او آئی سی کے کانٹیکٹ گروپ کا ہنگامی اجلاس جدہ میں ہوا۔ سیکریٹری خارجہ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں بھارتی جارحانہ عزائم سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ سیکریٹری خارجہ نے کشمیر کی حمایت پر او آئی سی کا شکریہ ادا کیا۔ سیکریٹری خارجہ نے واضح کیا کہ مسئلے کا واحد حل مذاکرات ہیں۔ اجلاس میں حریت کانفرنس کے غلام محمد صفی نے یادداشت پیش کی۔

ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ بھارت نے رواں ہفتےمزید 4 کشمیریوں کو شہید کیا۔ صرف اپریل میں 760 کشمیری گولیوں اور پیلٹ گن سے زخمی ہوئے، کشمیری قیادت کو بھی مسلسل نظر بند رکھا گیا ہے۔

ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ پاکستان شمالی اور جنوبی کوریا میں تاریخی مذاکرات کا خیر مقدم کرتا ہے۔ پاکستان افغانستان میں دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ شکیل آفریدی کے معاملے پر کوئی ڈیل نہیں کی جارہی۔ ’ڈیل ہی نہیں تو حسین حقانی کے ساتھ تبادلے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘۔

انہوں نے کہا کہ امریکی سفارت کار کی گاڑی کی ٹکر ایک حادثہ ہے۔ امریکی سفارت کار کو تھانے لے جا کر تصدیق اور کارروائی کی گئی۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ پاک افغان سرحد پر نقل و حرکت دہشت گردوں کو مواقع فراہم کرتی ہے۔ افغان مہاجرین کی موجودگی سے دہشت گردوں کو چھپنے کا موقع ملتا ہے۔ افغان مہاجرین کی واپسی عالمی برادری کی بھی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پاکستان اپنے حصے کا کام بارڈر مینجمنٹ نظام وضع کر کے کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغان سرحد پر پاکستان کی حدود میں دہشت گرد موجود نہیں۔ پاکستان اسی وجہ سے بہتر سرحدی انتظام پر زور دیتا ہے۔

بھارتی قیدی کو رہا کرنے کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ بھارتی قیدی جتندر کو خون کی بیماری اور ذہنی توازن خراب ہے۔ عموماً بھارت بھی ہمارے قیدیوں کو واپس بھیج دیتا ہے۔ ’بھارت میں قید 46 قیدیوں کی جلد رہائی کی امید ہے‘۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں