اسلام آباد (19 جولائی 2026): وزیر اعظم شہباز شریف کو پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی آغا رفیع اللہ نے خط لکھ کر وزارت خارجہ دستاویزات کے تصدیقی نظام پر اظہار تحفظات کیا ہے۔
آغا رفیع اللہ نے فارن آفس دستاویزات کے تصدیقی نظام کو آؤٹ سورس کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خط میں کہا کہ وزارتِ خارجہ کے دستاویزات کے تصدیقی نظام میں اصلاحات لائی جائیں۔
آغا رفیع اللہ کا کہنا تھا کہ فارن آفس کے باہر سائلین کے رش کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے، سائلین کی یہ بھیڑ تکلیف دہ اور افسوس ناک ہے، شہریوں کو فارن آفس سے دستاویزات تصدیق میں مشکلات کا سامنا پیش آ رہا ہے۔
انھوں نے کہا ’’سائلین دور دراز علاقوں سے دستاویزات کی تصدیق کے لیے اسلام آباد آتے ہیں، جس کے لیے شہریوں کو سفری اخراجات سمیت طویل انتظار بھی کرنا پڑتا ہے، وزارت خارجہ کی دستاویزات کی تصدیق کا نظام محدود صلاحیت کا حامل ہے، اس لیے حکومت یہ نظام آؤٹ سورس کرے۔
پاکستان نے ایک سال میں 16 ارب ڈالر سے زائد بیرونی قرض لیے
خط میں آغا کا مطالبہ تھا کہ فارن آفس دستاویز تصدیقی نظام جدید اور عوام دوست سسٹم میں بدلا جائے، ملک گیر سہولت مراکز قائم کیے جائیں، اور اس نظام کو ڈیجیٹلائز کیا جائے۔ پی پی ایم این اے کا کہنا تھا کہ دستاویزات کی تصدیق کے لیے درخواست اور فیس آن لائن وصول کی جائے، اور فارن آفس کیو آر کوڈ کے ذریعے دستاویزات کی ڈیجیٹل تصدیق کرے۔
آغا رفیع اللہ نے کہا ان مجوزہ اصلاحات سے وزارت خارجہ تصدیقی نظام کی کارکردگی بہتر اور اس میں شفافیت آئے گی، ان اصلاحات سے شہریوں کے سفری اخراجات اور کارروائی کا وقت کم ہوگا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ تجاویز حکومت کے ڈیجیٹل پاکستان، ای گورننس، اور عوامی خدمات کے وژن سے ہم آہنگ ہیں، اس لیے وزیر اعظم وزارتِ خارجہ کو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کے لیے ہدایات دیں۔


