site
stats
پاکستان

دہشت گردی مشترکہ دشمن ہے، مل کرشکست دینا ہوگی: دفتر خارجہ

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے کہا ہے کہ دہشت گردی ہمارا مشترکہ مسئلہ اور دہشت گرد مشترکہ دشمن ہے، مل کر شکست دینا ہوگی۔ افغانستان میں بھارت کا کردار خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ دہشت گردی مشترکہ دشمن ہے۔ پاکستان، امریکا سمیت تمام ممالک کو باہمی تعاون سے دہشت گردی کو شکست دینا ہوگی۔ ہمارا ایجنڈا مشترکہ دشمن کو شکست دینا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ پاک فوج نے کینیڈین خاندان کو بازیاب کروایا۔ غیر ملکیوں کو افغانستان میں اغوا کیا گیا تھا۔ امریکا نے پاکستان کے تعاون اور مغویوں کی بازیابی کو سراہا۔

مزید پڑھیں: پاک فوج کا کامیاب آپریشن، 5 غیر ملکی بازیاب

نفیس زکریا کا کہنا تھا کہ افغانستان میں بھارت کا وسیع کردار خطے کے مفاد میں نہیں، بھارت، افغان سرزمین کے استعمال سے دہشت گردی کا مؤجب ہے۔ افغانستان میں دیرپا امن و استحکام کے خواہاں ہیں۔

مسئلہ کشمیر کے بارے میں بات کرتے ہوئے ترجمان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ چند روز میں 7 کشمیری شہید کر دیے گئے۔ وادی میں گمنام قبروں کا معاملہ بھارت کا چہرہ بے نقاب کرتا ہے۔

انہوں نے عالمی برادری سے معصوم کشمیریوں پر مظالم کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں خونریزی رکوائے۔ ’امید ہے عالمی برادری نہتے کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہوگی‘۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ اعلیٰ سطح کا امریکی وفد پاکستان کے دورے پر ہے۔ امریکی وفد کی وزیر اور سیکریٹری خارجہ سے ملاقاتیں ہوئی ہیں۔

مزید پڑھیں: مغویوں کی بازیابی پر پاکستان کے شکر گزار ہیں، ریکس ٹلرسن

ان کے مطابق تہمینہ جنجوعہ کا دورہ روس بھی اچھا رہا، امریکی وفد کے ساتھ مذاکرات اہم رہے۔ مذاکرات میں دونوں جانب سے رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ امریکا کو آپریشنز کی کامیابیوں سے آگاہ کیا، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کلیدی کاوشیں کیں اور لازوال قربانیاں دیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ ہر سطح پر رابطے جاری رکھے گا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top