site
stats
پاکستان

بھارت کے جنگی عزائم خطے کی سلامتی کے لئے خطرہ ہیں،دفترخارجہ

اسلام آباد : ترجمان دفترخارجہ نفیس زکریا کا کہنا ہے کہ بھارت کے جنگی عزائم خطے کی سلامتی کے لئے خطرہ ہیں، بھارت کی منفی حکمت عملی بقائے باہمی کے اصولوں کیخلاف ہے۔

ترجمان دفترخارجہ نفیس زکریا نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل کی جنگی حکمت عملی کے خوفناک نتائج ہوسکتے ہیں، بھارت کے جنگی عزائم خطے کی سلامتی کے لئے خطرہ ہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا اسلامی فوجی اتحاد نہ کسی کے نہیں بلکہ دہشتگردی کے خلاف ہے، پاکستان کی خارجہ پالیسی باہمی اعتماداورمفاد پرمبنی ہے۔ہمسایہ ممالک سمیت دنیاسے دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں۔

بھارت کی ایل اوسی کی خلاف ورزی کا مقصد مقبوضہ کشمیرمیں جاری مظالم سے توجہ ہٹانا ہے

نفیس زکریا نے کہا کہ بھارت کی ایل اوسی کی خلاف ورزی کا مقصد مقبوضہ کشمیرمیں جاری مظالم سے توجہ ہٹانا ہے، ہرواقعے کی رپورٹ اقوام متحدہ کے مبصرمشن کو بھیجتے ہیں، پاک افغان بارڈرپراپنی سرحد کے اندرباڑلگا رہے ہیں، باڑ لگانے کا مقصد بالکل واضح ہے، تجارتی اور قانونی مقاصد کیلئے ویزارکھنے والے افغان شہریوں کو آنے جانے کی اجازت ہے۔

دفترخارجہ نے پارا چنار اور لاہورمیں دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے شہدا کو خراج عقیدت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا کی اور کہا کہ دہشت گردوں کو شکست ہوکر رہے گی۔

عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا نوٹس لے

انکا مزید کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کاسلسلہ جاری ہے، عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کانوٹس لے، مقبوضہ کشمیرکی سول سوسائٹی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، پاکستانی میڈیا نے بھارتی مظالم کو دنیا کے سامنے آشکار کیا ہے، مقبوضہ کشمیر سے متعلق میڈیا کے کردار کو سراہتے ہیں۔

ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ بھارت مظالم سے توجہ ہٹانے کیلئے ایل او سی کی خلاف ورزی کرتا ہے، ہر واقعے کی رپورٹ اقوام متحدہ کے مبصر مشن کو بھیجتے ہیں، پاکستان بھارتی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتا ہے، ہماری افواج انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

افغانستان کے حوالے سے نفیس زکریا نے کہا کہ افغانستان میں کام کرنیوالے پاکستانیوں کے ویزہ مسائل سے آگاہ ہیں ، افغان سفارتخانے کے ساتھ معاملہ اٹھایا گیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top