The news is by your side.

جوہری پروگرام پر کوئی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا،دفترخارجہ

اسلام آباد: دفترخارجہ کا کہنا ہے پاکستان ذمہ دارایٹمی ملک ہے، جو اپنی سا لمیت کے لیے ہر مناسب اقدام کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے، ملک کے دفاع کے لئے جو مناسب ہوگا، کیا جائے گا.

دفترخارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ جوہری پروگرام پرکوئی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا، پاکستان کا جوہری پروگرام صرف اپنے دفاع کے لئے ہے، ضرب عضب میں ہرقسم کے دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کی گئی اور ضربِ عضب کو عالمی پذیرائی مل رہی ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ زلزلے زدگان کی امداد کے لئے اقوام متحدہ سمیت بہت سے ملکوں نے پیشکش کی ہے، حکومت اپنے وسائل سے صورتحال سے نمٹ رہی ہے، پاکستان شام کے مسئلہ کا سیاسی اور پرامن حل چاہتا ہے۔

دفتر خارجہ کے تر جمان خلیل قاضی نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے زلزلہ متاثرین کے لیے امداد کی پیشکش کے باعث اہم اور سنجیدہ معاملات کو پس پشت نہیں ڈالا جا سکتا، بین الاقوامی برادری شیو سینا کی دہشت گرادنہ کارروائیوں کا نو ٹس لے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت خطے میں اسلحہ کی دوڑ کو فروغ دے رہا ہے، جس سے پاکستان کے سفارت خا نے دنیا کو آگاہ کر رہے ہیں۔ پاکستان نے ضرب عضب کے تحت تمام دہشت گردگروہوں کے خلاف بھر پور کارروائی کی ہے جس کو عالمی برادری نے سراہا ہے۔

قاضی خلیل اللہ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ انسداد دہشت گردی کی مشترکہ مشقیں کر رہے ہیں۔پاکستان ویانا میں شام کے مسئلے پر عالمی قوتوں کے مابین ہو نے والے مذاکرات کی حمایت کرتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ روس کیساتھ پاکستان کے دوستانہ تعلقات ہیں اور روس کے صدر کے متو قع دورے پر خو ش آمدید کہتے ہیں۔ ٹونی بلیئر نے عراق پر مسلط کی جانے والی غیر قانونی جنگ کا اقرار کیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے افغانستان کی درخواست پر امن مذاکرات میں بھر پور کردار ادا کیا تھا اور اگر دوبارہ افغانستا ن کی جانب سے مذاکرات میں تعاون کی درخواست کی گئی تو پاکستان ضرور کرے گا۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ داعش دنیا کا مشترکہ مسئلہ ہے ۔ پاکستان داعش کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ہر قسم کا تعاون کرے گا.

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں