The news is by your side.

Advertisement

ہم جنگ سے دور ہیں یا نہیں اس بارے میں پیشگوئی نہیں کی جاسکتی: دفتر خارجہ

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ ہم جنگ سے دور ہیں یا نہیں اس بارے میں پیشگوئی نہیں کی جاسکتی۔ مقبوضہ کشمیر کا معاملہ سب سے پہلے ہے، پاکستان بات کے لیے تیار ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے معاملے سمیت ہر موضوع پر بات کو تیار ہے۔

تفصیلات کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان نے مثالی ذمے داری کا مظاہرہ کیا، بھارتی طیاروں نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔ پاک فضائیہ کی وجہ سے بھارتی طیارے واپس بھاگنے پر مجبور ہوئے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے 2 بھارتی طیاروں کو گرایا، ایک پائلٹ گرفتار ہوا جسے واپس کردیا گیا۔ وزیر اعظم نے بھارتی پائلٹ کو جذبہ خیر سگالی کے طور پر رہا کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی وفد 14 مارچ کو بھارت کا دورہ کرے گا۔ پاکستان کی خواہش ہے کہ معاملات بات چیت سے حل ہوں، ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ ہمیں کمزور سمجھا جائے گا تو ایسا ہی جواب ملے گا جیسا 27 فروری کو دیا گیا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ اقوام عالم مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا نوٹس لے۔ ڈوزیئر ملا ہے، اس پر جانچ جاری ہے جواب جلد دیا جائے گا۔ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کی مذمت کرتا ہے، مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں کئی افراد کو شہید اور کئی افراد کو گرفتار کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت میں پاکستانی قیدی شاکر اللہ کے قتل پر پاکستان میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے، پاکستان نے پوسٹ مارٹم رپورٹ شیئر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ پاکستان بھارتی حکومت کے جارحانہ اقدامات کی مذمت کرتا ہے، عالمی برادری سے مطالبہ ہے بھارت کے اقدامات پر کردار ادا کرے۔ شاکر اللہ کے قتل کی ایف آئی آر میں بھارتی جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو نامزد کیا ہے۔ پاکستان شاکر اللہ کے معاملے کو آئی سی آر سی سمیت ہر اہم عالمی فورم پر اٹھائے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے کرتار پور راہداری مشاورتی عمل جاری رکھنے کا فیصلہ کیا، کرتار پور سے متعلق عالمی سطح پر پاکستان کے فیصلے کو سراہا جا رہا ہے۔ پاکستان نے بھارت کی جانب سے فضائی حملے میں ہلاکتوں کی تردید کی۔ اب بھارت میں بھی بھارتی دعوے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ کشیدگی میں کمی سے متعلق امریکا کی کوششیں بھی شامل ہیں، ہم جنگ سے دور ہیں یا نہیں اس بارے میں پیشگوئی نہیں کی جاسکتی۔ مقبوضہ کشمیر کا معاملہ سب سے پہلے ہے، پاکستان بات کے لیے تیار ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے معاملے سمیت ہر موضوع پر بات کو تیار ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ مولانا مسعود اظہر سے متعلق فیصلہ پاکستان کے قومی مفاد میں کیا جائے گا۔ پارلیمنٹ کی مشترکہ قرارداد کی روشنی میں او آئی سی میں شرکت نہیں کی۔ پاکستان سشما سوراج کی موجودگی میں او آئی سی میں نہیں بیٹھ سکتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ او آئی سی میں بھارت کی موجودگی کے باوجود قراردادیں منظور کی گئیں۔ تمام ممالک نے بھارت کی مذمت کی اور پاکستان کے اقدام کو سراہا۔ بھارت کو دعوت او آئی سی نے نہیں بلکہ عرب امارات نے بطور میزبان دی۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے بھارتی آبدوز کو ٹریس کیا اور واپس جانے پر مجبور کیا، معاملے پر سفارتی سطح پر ایکشن کا فیصلہ نہیں ہوا۔ احساس ہونا چاہیئے اپنی حفاظت ہم نے خود کرنی ہے۔ پاکستان نے ملٹری، سیاسی اور سفارتی سطح پر بھارت کو شکست دی۔ پاکستانی میڈیا نے بھی ذمہ دار کردار ادا کیا جسے عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا۔

اس سے قبل ایک بریفنگ کے دوران بھی ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھے، ہم پر جب جنگ مسلط کی گئی تو ہم نے جواب دیا، پاکستان دفاع کے لیے کسی کی طرف نہیں اپنے عوام اور فوج کی طرف دیکھ رہا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان ساری صورتحال پر عالمی برادری کے ساتھ مکمل رابطے میں ہے، پاکستان کبھی بھی بھارت سے مذاکرات سے پیچھے نہیں ہٹا۔ مقبوضہ کشمیر بنیادی مسئلہ ہے، کوئی بھی بات چیت اسی تناظر میں ہوتی ہے، ’پہلے بھی کہا کہ آپ تباہی کے راستے پر ہیں، نہ صرف اپنے لیے بلکہ خطے کے لیے بھی‘۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں