The news is by your side.

Advertisement

کلبھوشن کیس میں تمام فیصلے پاکستانی قوانین کے مطابق ہوں گے: دفتر خارجہ

اسلام آباد: دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ کلبھوشن کے معاملے پر کوئی ڈیل نہیں کی جارہی، عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کا پاکستانی قوانین کی روشنی میں احترام ہوگا۔ کلبھوشن کے معاملے پر تمام فیصلے پاکستانی قوانین کے مطابق ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بتایا کہ مقبوضہ کشمیر میں مزید 2 کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا، مقبوضہ کشمیر میں بھارت غیر انسانی اقدامات کر رہا ہے۔

دفتر خارجہ کی طرف سے عید میلاد النبی پر مقبوضہ کشمیر میں اجتماعات پر پابندی کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ مقبوضہ وادی میں مساجدوں کو عید میلاد النبی پر بند کیا گیا۔ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں مذہبی حقوق کی پامالی کا نوٹس لیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ بابری مسجد کا معاملہ او آئی سی کے ایجنڈے پر موجود ہے، او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں عندلیب عباس نے نمائندگی کی۔ سیکریٹری خارجہ پارلیمانی امور نے سائیڈ لائنز پر مختلف رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ بابری مسجد فیصلے کی مذمت کرتے ہیں، مسجد کو ساڑھے 400 برس مسلمان استعمال کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں بابری مسجد کے فیصلے کے بعد مساجد کو خطرات لاحق ہوگئے، ہم ہر فورم پر بابری مسجد کے معاملے کو اٹھاتے رہیں گے۔ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے سے اقلیتیں غیر محفوظ ہوگئی ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ کرتار پور راہداری میں عام پاکستانی شہری جا سکتے ہیں تاہم میڈیا کو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر پیشگی اجازت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو دنیا بھر میں تسلسل کے ساتھ اٹھا رہے ہیں۔ ایل او سی پر ہماری افواج چوکس ہیں، ہر قسم کے دفاع کو تیار ہیں۔ ایل او سی پر جب بھی خلاف ورزی ہوئی اس کا بھرپور جواب دیا گیا۔ ہم اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہیں ہیں۔ مقبوضہ کشمیر پر ہمارے مؤقف میں کوئی تبدیلی آئی ہے نہ آئے گی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ کلبھوشن کے معاملے پر کوئی ڈیل نہیں کی جارہی، آئی ایس پی آر کے مؤقف کی حمایت کرتے ہیں۔ بھارت کی کمر دیوار کے ساتھ لگ چکی ہے۔ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کا پاکستانی قوانین کی روشنی میں احترام ہوگا۔ کلبھوشن معاملے پر تمام فیصلے پاکستانی قوانین کے مطابق ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے اعلیٰ سطح کے وفد نے کابل کا دورہ کیا ہے۔ حالیہ صورتحال پر افغان حکام سے بات چیت ہوئی ہے۔ اسرائیل کو تسلیم نہیں کر رہے فلسطین پر حملے کی مذمت کرتے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں