The news is by your side.

Advertisement

پانی روکنے کا بھارتی اقدام پاکستان پر جارحیت تصور ہوگا: دفتر خارجہ

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ مودی کا پانی بند کرنے کا اشتعال انگیز بیان قابل مذمت ہے۔ پانی روکنے کا اقدام پاکستان پر جارحیت تصور ہوگا۔ دریاؤں کے پانی کا بہاؤ معاہدے کے مطابق جاری رہنا چاہیئے۔

تفصیلات کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بتایا کہ بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کی سیز فائر کی خلاف ورزیوں پر طلبی کی گئی۔ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کو 75 روز ہوچکے ہیں، بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور بربریت جاری ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ کشمیر میں مزید 3 کشمیری شہید کر دیے گئے، وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ دواؤں اور اشیائے خوراک کی شدید قلت ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام کے بیرونی دنیا سے رابطے منقطع ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم مودی کی حکومت جارحانہ عزائم ظاہر کر چکی ہے، مودی کا پانی بند کرنے کا اشتعال انگیز بیان قابل مذمت ہے۔ پانی روکنے کا اقدام پاکستان پر جارحیت تصور ہوگا۔ دریاؤں کے پانی کا بہاؤ معاہدے کے مطابق جاری رہنا چاہیئے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ہماری طرف سے کرتار پور راہداری کا کام تقریباً مکمل ہے، بھارت انتہا پسند اور جارحانہ پالیسیوں پر خود تنہائی کا شکار ہے۔ مودی خود اپنی ریاست کو بند گلی میں لے گئے ہیں۔ پاکستان نے مسئلہ کشمیر ہر جگہ اٹھایا اور بھارتی چہرہ بے نقاب کیا۔ بابری مسجد کے معاملے پر بھارت کی عدالت کا فیصلہ آئے گا تو دیکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کلبھوشن یادیو تک بھارت کو قونصلر رسائی دی جاچکی ہے، معاملے کے مزید قانونی پہلوؤں پر بعد میں بات کی جائے گی۔ پاکستان تسلسل کے ساتھ کشمیر کا مسئلہ اٹھا رہا ہے، یہ جہد مسلسل ہے۔ ہماری بھرپور سفارتی کوششوں سے بھارت پریشانی کا شکار ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان نے 13 اکتوبر کو تہران کا دورہ کیا، وزیر اعظم نے ایران کے روحانی پیشوا اور صدر سے ملاقاتیں کیں۔ ان کا دورہ خطے میں کشیدہ فضا کم کرنے کے لیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نےایرانی قیادت پر خلیج میں کشیدگی ختم کرنے پر زور دیا، وزیر اعظم نے 15 اکتوبر کو سعودی عرب کا بھی دورہ کیا، انہوں نے سعودی فرمانروا اور ولی عہد سے ملاقاتیں کیں۔

دفتر خارجہ کے مطابق دورے کا مقصد خطے میں کشیدگی ختم کرکے امن کو فروغ دینا تھا۔ وزیر اعظم نے ایران اور سعودی عرب کو بات چیت سے مسائل کے حل پر زور دیا۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ جدہ حادثے میں کسی پاکستانی کے جاں بحق یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں، افغانستان میں پاکستانی مہاجرین کی موجودگی یا کسی کیمپ سے متعلق علم نہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں