The news is by your side.

Advertisement

عالمی عدالت کا دائرہ اختیار تسلیم نہیں‌ کرتے، یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے، دفتر خارجہ

اسلام آباد: عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ عالمی عدالت انصاف کا دائرہ اختیار تسلیم نہیں کرتے ، یہ معاملہ قومی سلامتی سے متعلق ہے، کلبھوشن یادیو اپنے جرائم کا اعتراف کرچکا ہے۔


یہ پڑھیں: کلبھوشن عالمی عدالت کیس: بھارت مطمئن نہیں کرپایا‘ پاکستان قونصلر رسائی دے‘ مکمل فیصلے تک پھانسی نہ دے


 تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان نفیس زکریا کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال مزید ابتر ہو رہی ہے۔ سرینگر، کلام، ہندواڑہ، بڈگام اور گاندر بل میں 200 سے زائد کشمیری شہید ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی قابض افواج مقبوضہ کشمیر میں طلبا کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ وادی میں 34 سے زائد ٹی وی چینلز کی نشریات بند ہیں۔

ترجمان نے بریفنگ میں بتایا کہ سید علی گیلانی کو اپنے معالجوں سے ملنے سے روک دیا گیا۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نام مکتوب بھیجا ہے۔ مکتوب میں بھارتی قابض افواج کے مظالم کو اجاگر کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک حق خود ارادیت کچلنے کی کوشش پر عالمی برادری کی توجہ ملی۔ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم بند کروائے۔

کلبھوشن یادیو کا معاملہ

عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف کا دائرہ اختیار تسلیم نہیں کرتے ، یہ معاملہ قومی سلامتی سے متعلق ہے۔

انہوں ںے کہا کہ کلبھوشن اپنے جرائم کا اعتراف کرچکا ہے اور ہمارے وکلا بھی یہی مؤقف بتا چکے ہیں، بھارت کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے ہتھکنڈے استعمال کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے رواں سال ایک اعلامیہ عالمی عدالت انصاف میں جمع کروایا تھا،  پاکستان چند معاملات میں عالمی عدالت انصاف کا دائرہ کار تسلیم نہیں کرتا، کلبھوشن یادیو کا معاملہ بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ویانا کنونشن کی خلاف ورزیوں کے الزامات پر بھارت ہی بے نقاب ہوا۔ بھارتی جاسوس کئی بے گناہ پاکستانیوں کے قتل میں ملوث ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت کی پاکستانیوں کے لیے میڈیکل ویزے پر ناقابل عمل شرائط افسوسناک ہیں، ویزے کو مشیر خارجہ کے خط سے مشروط کیا جانا غیر منطقی ہے، بین الریاستی تعلقات میں یہ انوکھی مثال قائم کی گئی ہے۔

نفیس زکریا نے بتایا کہ پاکستان مبصر مشن سے بھرپور تعاون کر رہا ہے البتہ بھارت نے مبصر مشن کی نقل و حرکت پر پابندی لگائی ہے۔

گزشتہ روز افغانستان میں پاکستانی سفارتی اہلکاروں کو حراست میں رکھے جانے کے معاملے پر ترجمان نے کہا کہ افغانستان نے عالمی سفارتی آداب کی خلاف ورزی کی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں