The news is by your side.

Advertisement

یوکرین سرحد پر پھنسے غیرملکی طلبا نسل پرستی کا شکار

کیف: یوکرین کی سرحد پر پھنسے غیرملکی طلبا نسل پرستی کا شکار ہونے لگے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق غیرملکی طالب علموں کا کہنا ہے کہ بارڈر گارڈز نے یوکرین چھوڑنے سے روک رکھا ہے، بارڈر گارڈز اور یوکرینی شہریوں کی جانب سے نسل پرستانہ رویے کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

ایک طالب علم نے کہا کہ خرکیف سے دو روز قبل پولیںڈ سرحد سے متصل شیگینی چیک پوائنٹ پہنچے ہیں، یوکرینی بارڈرز گارڈ اور فوجیوں نے چیک پوسٹ سے واپس بھیج دیا۔

طالبعلموں کا کہنا ہے کہ ہمیں کہا گیا کہ یوکرین چھوڑ کر نہیں جاؤ گے، ہمارے ساتھ مل کر لڑو گے، بتایا گیا کہ سیاہ فام افراد کہیں نہیں جائیں گے، یہیں رکیں گے۔

مزید پڑھیں: یوکرین جنگ: کینیڈا کا روس کے خلاف بڑا فیصلہ

علاوہ ازیں گزشتہ روز یوکرینی صدر نے قوم سے خطاب میں کہا کہ دارالحکومت کا دفاع سب سے پہلی ترجیح ہے اور اس کیلئے ملٹری ایڈمنسٹریشن میں تبدیلی کی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دارالحکومت کے دفاع کیلئے جنرل میکولا زیرنوف کو ملٹری انتظامیہ کا سربراہ بنایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ جنرل میکولا زیرنوف ملک کی قومی سلامتی اور دفاعی کونسل کے رکن ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں