غیرملکی دہشت گردوں کے پاس پاکستانی پاسپورٹ ہیں، نثار
The news is by your side.

Advertisement

غیرملکی دہشت گردوں کے پاس پاکستانی پاسپورٹ ہیں، نثار

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ پاکستانی شناختی کارڈ رکھنے والے دہشت گردی کے واقعات میں پکڑے گئے جو درحقیقت پاکستانی شہری نہیں ہیں، انہوں نے شناختی کارڈ کی غلط منسوخی پر شناختی کارڈ بحال کرنے کے ضابطہ اخلاق کا بھی اعلان کردیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور حکومت میں ساڑھے 9 کروڑغیر قانونی سمیں منسوخ کی گئیں جبکہ ہماری حکومت نے ساڑھے 3 سال میں ساڑھے 4 لاکھ شناختی کارڈز اور ساڑھے 32 ہزار پاسپورٹس منسوخ کیے۔

 ‘‘ پڑھیں: ’’ ملامنصور کی نعش افغانستان بھیج دی گئی، وفاقی وزیرداخلہ

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ ’’جعلی شناختی کارڈ کا کاروبار شوکت عزیز کے دور میں عروج پر پہنچا۔ ملا اختر منصور کا شناختی کارڈ بھی سنہ 2005 میں بنایا گیا۔غیرملکیوں کو پاکستانی پاسپورٹ بناکر دیے گئے جنہوں نے ملک میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں حصہ لیا اور پاکستان کی بدنامی کا باعث بنے، ایسے کئی غیرملکی گرفتار ہوئے جو پاکستان پاسپورٹ کے حامل ہیں مگر اُن کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے‘‘۔

وزیر داخلہ کے مطابق پچھلے دور حکومت میں صرف 500 غیر قانونی سموں کو بند کیا گیا۔ چوہدری نثار نے کہا کہ اخبارات میں کہا جارہا ہے کہ منسوخ ہونے والے شناختی کارڈز میں بہت سے درست شناختی کارڈز بھی تھے تاہم ایسے شناختی کارڈز کی تعداد بہت کم ہے، لیکن میں یقین دلاتا ہوں کہ جس شخص کا شناختی کارڈ غلط منسوخ ہوا ہے اس کا کارڈ فوری طور پر بحال کردیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر متاثرہ شخص مندرجہ ذیل میں سے کوئی ایک دستاویز پیش کرے تو اس کا شناختی کارڈ فوری طور پر بحال کردیا جائے گا۔

سنہ 1978 سے پہلے کا اراضی کا ریکارڈ۔

تصدیق شدہ ڈومیسائل۔

رہائشی علاقے سے تصدیق شدہ شجرہ نصب۔

منسوخ شناختی کارڈ کا مالک یا اس کا کوئی اور خونی رشتے دار سرکاری ملازم ہے تو اس کا کارڈ فوری طور پر بحال کردیا جائے گا۔

سنہ 1978 سے قبل کی (اس شخص کی یا اس کے والد کی) باقاعدہ تصدیق شدہ تعلیمی اسناد۔

سنہ 1978 سے قبل کی حکومت پاکستان سے جاری کردہ کوئی بھی متعلقہ دستاویز۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں