The news is by your side.

Advertisement

کچھ کرنے سے قبل ’پلان بی‘ بنانے کا نقصان جانتے ہیں؟

ہم اب تک پڑھتے آئے تھے کہ جب بھی کوئی نیا کام کرنا شروع کرنا ہو، تو ایک بیک اپ پلان یا پلان بی ضرور ذہن میں رکھنا چاہیئے۔ وہ اس لیے کہ اگر حالات یا نتائج توقع کے مطابق نہ نکلیں تو دوسرے پلان پر عمل کیا جاسکے۔

لیکن کیا آپ یہ پلان بی بنانے کا نقصان جانتے ہیں؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بھی آپ کسی مقصد کے لیے پلان بی بناتے ہیں تو آپ کی ناکامی کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

حال ہی میں کی جانے والی اس تحقیق کے لیے مختلف افراد کو دو گرہوں میں تقسیم کیا گیا۔ ایک افراد کو ایک ٹاسک سونپا گیا جبکہ دوسرے افراد سے کہا گیا کہ وہ اس ٹاسک کو شروع کرنے سے پہلے سوچیں کہ کیا اسے مکمل کرنے کا کوئی دوسرا راستہ نکل سکتا ہے؟

نتائج میں دیکھا گیا کہ متبادل راستہ تلاشنے والے زیادہ تر افراد ٹاسک مکمل کرنے میں ناکام رہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب آپ پلان بی بناتے ہیں تو غیر ارادی طور پر آپ کی توجہ تقسیم ہوجاتی ہے، وہ توجہ جو آپ کو صرف اپنے مرکزی مقصد پر دینی چاہیئے، وہ بٹ کر پلان اے اور پلان بی میں تقسیم ہوجاتی ہے۔

ان کے مطابق پلان بی آپ کے خیالات اور ان آئیڈیاز کو بھی منتشر کرسکتا ہے جو آپ کو کسی مشکل کے سامنے آنے کے بعد ان سے نمٹنے میں مدد دے سکتے تھے جبکہ پلان بی موجود ہونے کی صورت میں آپ کے دماغ میں یہ خیال جگہ نہیں بنا پاتا کہ چاہے جیسے بھی ہو بس کامیابی حاصل کرنی ہو۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ اپنے مقصد میں واقعی کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو تمام کشتیاں جلا دینے والی حکمت عملی پر عمل کرتے ہوئے ایسے کام شروع کردینا چاہیئے جیسے یہ زندگی اور موت کا معاملہ ہو۔ پلان بی، سی یا ڈی کو بالکل بھی ذہن میں نہیں رکھنا چاہیئے۔

تو کیا آپ بھی اب کوئی کام شروع کرتے ہوئے پلان بی بنانا چاہیں گے؟

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں