The news is by your side.

Advertisement

بھارت پاکستان کے خلاف معاشی دہشت گردی میں ملوث ہے، ترجمان دفترخارجہ

اسلام آباد: ترجمان دفترخارجہ نفیس زکریا نے کہا ہے کہ بھارت اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھل کر خلاف ورزیاں کرتا ہے اور کلبھوشن کو تخریب کار سرگرمیوں کے لئے ہی پاکستان بھیجا گیا تھا اور پاکستان بھارت کی سرحدی خلاف ورزیوں کو سفارتی طریقے سے اٹھاتا رہتا ہے.

یہ بات انہوں نے ہفتہ وار بریفنگ دے رہے تھے، ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت انسانی حقوق کی تنظیموں کو مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت نہیں دے رہا ہے کیوں کہ وہ بھارتی جارحیت اور بربریت کے بے نقاب ہونے کا خوف رکھتا ہے.

ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے کہا کہ بھارت لائن آف کنٹرول پر مسلسل سیز فائر کی خلاف ورزیاں کررہا ہے اور مقامی آبادی کو اپنی بربریت کا نشانہ بنا رہا ہے جس پر ہم اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے رہتے ہیں.

انہوں نے کہا کہ رواں برس ایک ہزار سے زائدسرحدی خلاف ورزیاں کی گئیں جب کہ بھارت کے اندرونی حالات بھی انسانی حقوق کی بنیادی خلاف ورزیوں کے حوالے سے بہت خراب رہے ہیں جہاں مسلم، دلت، مسیحیوں اوردیگر اقلیتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے.

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت کی موجودہ حکومت پاکستان مخالف اِقدامات میں ملوث ہے اور پاکستان کے خلاف معاشی دہشت گردی میں بھی ملوث ہے جو سی پیک کے حوالے سے سازشیوں میں مشغول ہے اور سی پیک کونقصان پہنچاکراقتصادی سرگرمیوں کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے..

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسلح افواج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ نے افغانستان کا دورہ کیا ہے جو کہ خوشگوار ماحول ہوئی اور پُرامن افغانستان سب سے زیادہ پاکستان کے مفاد میں ہے جس کے لیے پاکستان اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا.

ایران کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایرانی بارڈر کے اس پار سے راکٹ فائرنگ یا دیگر غلط فہمیوں کے معاملات ایرانی حکام سے سامنے اٹھائے جاتے ہیں اور اس تدارک کے یقین دہانی بھی کرائی جاتی ہے.

ترجمان ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے کہا کہ مسلح افواج کو پوری پاکستانی قوم اورحکومت کی مدد اور حمایت حاصل ہے جس کے باعث پاکستان نےخلوص نیت سے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن کئے اور پاک سرزمین سے دہشت گردوں کا خاتمہ کردیا گیا ہے.


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں