The news is by your side.

Advertisement

پاکستان نے کلبھوشن معاملے پر بھارت کوایک اور موقع دینے کیلئے رابطہ ‌کرلیا ،جواب کا انتظار

اسلام آباد : ترجمان دفترخارجہ عائشہ فاروقی کا کہنا ہے کہ پاکستان نے کلبھوشن معاملے پربھارت کوایک اور موقع دینے کیلئے رابطہ کیا، بھارت کے جواب کا انتظار ہے۔

تفصیلات کے مطابق ترجمان دفترخارجہ عائشہ فاروقی نے ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے کل یوم استحصال کشمیر منایا گیا، وزیراعظم عمران خان نے قانون ساز اسمبلی سے خطاب بھی کیا، 14اگست کو سید علی گیلانی کو نشان پاکستان سے نوازا جائے گا۔

ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت نے لاکھوں کشمیریوں کو فوجی محاصرے میں رکھا ہواہے، مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کےمطابق حل طلب ہے، سلامتی کونسل کامباحثہ واضح کرتا ہے کہ مسئلہ کشمیر بھارت کا اندرونی مسئلہ نہیں،ترجمان

عائشہ فاروقی نے کہا کہ وزیر خارجہ نے عالمی برادری سے مقبوضہ کشمیر صورتحال پرنوٹس کا مطالبہ کیا اور دوست ممالک اورعالمی برادری مسئلے کےحل میں سنجیدگی دکھارہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کل مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی ظلم کیخلاف آوازیں اٹھائی گئی اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی یکطرفہ اقدام کو یکسر مسترد کیا گیا، ترکی، او آئی سی انسانی حقوق کمیشن نےبھی مقبوضہ کشمیرصورتحال پر اظہار یکجہتی کیا جبکہ ہیومن رائٹس واچ نے بھی بھارتی غیرقانونی اقدامات سے متعلق بیان دیا۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان او آئی سی کا بانی رکن ہے، ہمارےاوآئی سی ممالک سے قریبی تعلقات ہیں، اوآئی سی نےتسلسل سے جموں و کشمیر مسئلے کی حمایت کی، 5اگست 2019 سے پاکستان نے کشمیر پر اوآئی سی کے ساتھ 3اجلاس کیے ، جس میں او آئی سی نے کشمیر پر مضبوط بیانات دیے۔

عائشہ فاروقی کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام کی او آئی سی سے توقعات موجودہیں ، چاہتے ہیں کہ اوآئی سی اپناقائدانہ کرداراداکرے ، سعودی عرب سے ہمارے قریبی برادرانہ تعلقات ہیں، پاکستان کےسیاسی نقشےکےاجراپراراکین پارلیمان کوپہلےاعتمادمیں لیاگیا ، پاکستان اورعوام کو او آئی سی سے زیادہ توقعات ہیں۔

ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ پاکستان نے کلبھوشن معاملےپربھارت کوایک اور موقع دینے کیلئے رابطہ کیا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے کلبھوشن کا وکیل مقرر کرنے کیلئے رابطے کا حکم دیا تھا، عدالتی حکم کے مطابق بھارت سے رابطہ کیا گیاہے، کلبھوشن یادیو معاملےپربھارت کے جواب کا انتظار ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان افغان فورسز کی بلااشتعال فائرنگ اور دہشت گردوں کومدد فراہم کرنےکی بھی مذمت کرتے ہیں، دونوں ملکوں کوایسےمعاملات کیلئے بہتر تعاون اور کوآرڈینیشن کی ضرورت ہے، افغان آرمی کوبن شاہی میں بارڈرفلیگ میٹنگ کا کہاگیا ، پاکستان سرحدپارکسی بھی حملے کابھرپور جواب دینے کیلئے پرعزم ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں