The news is by your side.

Advertisement

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی اپنے خلاف چلنے والی خبر کی سختی سے تردید

اسلام آباد: سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے خلاف چلنے والی خبر کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے متعلق رپورٹ ہونے والی خبر حقائق کے منافی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اے آر وائی نیوز کے نمائندے حسن ایوب سے خصوصی گفتگو میں انصار عباسی کی خبر پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا میرے  متعلق رپورٹ خبرحقائق کے منافی ہے، سابق چیف جسٹس جی بی رانا شمیم کے سفید جھوٹ پر کیا جواب دوں۔

سابق چیف جسٹس کا کہنا تھا ک رانا شمیم بطور چیف جسٹس عہدے کی ایکسٹینشن مانگ رہے تھے ، میں نے توسیع منظور نہیں کی لیکن ایک باررانا شمیم نے مجھ سے ایکسٹینشن نہ دینے کا شکوہ بھی کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کہ یہ میرے لیے ممکن نہیں کہ اپنے خلاف چلنے والی خبروں کی وضاحتیں پیش کرتا پھروں۔

دوسری جانب اس حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ انصارعباسی کی ایک حیرت انگیزاسٹوری نظر سےگزری ، گلگت کےجج کہتےہیں وہ ثاقب نثار صاحب کے پاس چائے پینے بیٹھے ، جج نے فون پر ہائیکورٹ جج سے کہا نوازشریف کی ضمانت الیکشن سے پہلے نہیں لینی۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ کیسےکیسے لطیفے ملک میں نواز شریف کو مظلوم ثابت کرانےکی مہم چلا رہے ہیں، اندازہ لگائیں آپ کسی جج کے پاس چائے پینے جائیں اوروہ فون ملا کر بیٹھا ہے، سامنے ہی ایسی ہدایات جاری کرے کسی ملزم کی ضمانت لینی ہےیا نہیں ، ملزم بھی کوئی عام آدمی نہیں ملک کاوزیر اعظم۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ بیوقوفانہ کہانیاں اور سازشی تھیوریاں نہ گھڑیں ، یہ بتا دیں نواز شریف کہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کےپیسےکہاں سےآئے، بعد اپارٹمنٹ مریم نواز کی ملکیت میں دے دئیے گئے ، مریم نےکہا میری لندن میں تو کیا پاکستان میں بھی کوئ جائیداد نہیں ، اب مریم کی اربوں کی جائیداد سامنے آ چکی اس کا جواب دیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں