The news is by your side.

Advertisement

‘ اسحٰق ڈار نے پاکستان کو5 سال میں 33 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا ‘

سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ اسحٰق ڈار نے پاکستان کو5 سال میں 33 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا، ن لیگ کی وجہ سے پاکستان آئی ایم ایف گیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر خزانہ نے اسلام آباد میں ‘ رجیم تبدیلی کی مبینہ سازش’ کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن کے وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے پاکستان کو 5 سال میں 33 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا اور ن لیگ کی حکومت کا ایک اقدام پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس لے گیا۔

شوکت ترین نے کہا کہ پی ٹی آئی کو2018 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ملا، زرمبادلہ کے ذخائر 9.7 ارب ڈالر تھے، ن لیگ کے پانچ سالہ دور حکومت میں زراعت میں کوئی سرمایہ کاری نہیں ہوئی تھی، عمران خان سعودی عرب گئے تو وہ ولی عہد سے پیسے مانگنے کی بات نہیں کر پارہے تھے، میں نے سعودی ولی عہد سے کہا کہ جناب ہمیں یہ چاہیے، ہمیں اس وقت 29 ارب ڈالر کی ضرورت تھی جس کے لیے ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔

سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ جب دنیا میں کورونا آیا تو اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے اس دوران معاملات کو بہت اچھے طریقے سے ہینڈل کیا، انہوں نے واضح کہا کہ میں لاک ڈاؤن نہیں کروں گا، 2020 کے درمیان ہماری اکنامی ایک فیصد سے نیچے ہوئی جب کہ اسی دوران یورپ کی8، بھارت کی ساڑھے7، مڈل ایسٹ کی معیشت 5.5 فیصد نیچے گئی اور جب 2021 میں ہم نے 5.74 کی گروتھ دکھائی تو دنیا دنگ رہ گئی۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ اب لوگ کہہ رہے ہیں پاکستان کورونا سے کامیابی سے نمٹنے والے 3 اولین ممالک میں شامل تھا، دنیا نے پاکستان کی پالیسیوں کی تعریف کی، عمران خان نے ریاست مدینہ طرز پر سوشل ویلفیئر کو متعارف کرایا، کامیاب جوان، کامیاب پاکستان، احساس پروگرام کے ذریعے عوام کو ریلیف دیا، انہوں نے تعمیرات، ہاؤسنگ، ایکسپورٹ اور زراعت پر خرچ کیے، 5 سال میں سال میں ہم نے 10 ملین روزگار کے مواقع پیدا کرنے تھے جو عمران خان کا وعدہ تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ جس وقت رجیم تبدیلی کی سازش ہورہی تھی تو وزیراعظم اور میں نے جاکر لوگوں کو کہا کہ سیاسی عدم استحکام سے معاشتی عدم استحکام آئیگا، لیکن نہیں مانا گیا، چلیں ٹھیک ہے نہ مانیں، اب یہ حکومت آگئی اور یہ ڈر رہی ہے، موجودہ حکومت فیصلے نہیں کرپارہی ہے، یہ معیشت ٹھیک کرنے نہیں بلکہ نیب اور انتخابات کے قوانین بنانے آئے ہیں، جب ہم تھے تو ڈالر182 پر تھا اب211 روپے پر ہے، انٹرسٹ ریٹ4 فیصد سے بڑھ گیا، روزانہ کی بنیاد پر بجلی کی 7 سے8 ہزار میگاواٹ کی کمی ہے۔

شوکت ترین نے کہا کہ موجودہ حکومت نے 10 جون کو خانہ پری بجٹ پیش کیا، آئی ایم ایف نےکہا ہم پیسے نہیں دینگے پہلے بات مانو پھر پیسےدینگے، 6 ہفتے بعد منی بجٹ دیا، پٹرول پر 84 اور ڈیزل پر 120 روپے بڑھا دیے، 40 سے 50 فیصد تک ہر چیز کی قیمت بڑھی ہے۔ اب آئی ایم ایف سے معاہدہ ہورہا ہے اور تیسرا بجٹ آرہا ہے، یہ آئی ایم ایف سے معاہدے کے تحت پٹرولیم لیوی فی لیٹر50 روپے کردیں گے، ڈر لگتا ہے کہ ملک کے حالات سری لنکا جیسے نہ ہوجائیں، ابھی بھی وقت ہے کہیں دیر نہ ہوجائے فوری الیکشن کرائیں، حالات کا تقاضہ ہے کہ عوام کو طےکرنے دیا جائے کہ ملک کے فیصلے کون کرے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں