The news is by your side.

Advertisement

سابق آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کا تبادلہ لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج

لاہور :سابق آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کا تبادلہ ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا، جس میں کہا ہے کہ آئی جی پنجاب کی تبدیلی پولیس آرڈیننس 2002کی خلاف ورزی ہے، تبدیلی کا اقدام کالعدم قرار دے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی میں سابق آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کے تبادلے کیخلاف درخواست دائر کردی گئی ، مسلم لیگ ن کے ملک احمد خان نے شعیب اختر کےتبادلے کوچیلنج کیا۔

درخواست میں وفاق اور صوبائی حکومت ، چیف سیکرٹری پنجاب سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے، خواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سیاسی مقاصد کیلئےآئی جی پنجاب کو تبدیل کیاگیا، آئی جی پنجاب کی تبدیلی پولیس آرڈیننس 2002کی خلاف ورزی ہے۔

درخواست میں کہا گیا آرڈیننس 2002 کے مطابق آئی جی 3سال کیلئےتعینات ہوتاہے، استدعا ہے عدالت پنجاب حکومت کاآئی جی پنجاب کی تبدیلی کا اقدام کالعدم قرار دے۔

یاد رہے کہ آئی جی پنجاب اور سی سی پی او لاہور میں اختلافات کے بعد وزیر اعظم کی منظوری سے آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کو عہدے سے ہٹادیا گیا تھا۔

خیال رہے گذشتہ کئی روز سے آئی جی پنجاب اور سی سی پی او لاہور کے درمیان شدید اختلافات پائے جا رہے تھے، اختلافات کا آغاز اس وقت ہوا جب سی سی پی او نے افسران کو آئی جی کے حکم سے پہلے تمام معاملات اپنے علم میں لانے کی ہدایت کی جس پر آئی جی پنجاب شعیب دستگیر بھڑک اٹھے، انہوں نے سی سی پی او کی معذرت قبول کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں