The news is by your side.

Advertisement

وطن کی خاطر اراکین استعفے دینے کو تیاربیٹھے ہیں، نوازشریف کیسے خریدیں گے؟ ظفراللہ جمالی

السلام آباد : مسلم لیگ (ن) کے منحرف رکن قومی اسمبلی ظفر اللہ جمالی نے کہا ہے کہ ختم نبوت سے متعلق حلف نامے میں تبدیلی کے ذمہ داروں کو سزا نہیں ملی اور حلف نامے کی اصل حالت میں بحالی بھی دباؤ کے بعد عمل میں لائی گئی.

رکن قومی اسمبلی اور سابق وزیراعظم ظفراللہ جمالی اے ار وائی نیوز کے پروگرام دی رپورٹرز میں میزبان سمیع ابراہیم اور صابر شاکر کے سوالوں کے جوابات دے رہے تھے.

انہوں نے کہا کہ محب الوطن اور اسلام سے محبت کرنے والے اراکین اسمبلی کی وجہ سے حکومت دباؤ کا شکار ہوئی اور ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حلف نامے کو اصل حالت میں بحال کرنے پر مجبور ہوئی وگرنہ ان کے ارادے اچھے نہیں تھے تاہم اب بھی انہوں نے غلطی کے مرتکب ذمہ داروں کو بچالیا.

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جمہوریت کا نام لے کر صرف جموریت کو بد نام کیا گیا ہے اور کوئی ایک کام بھی جمہوری اصولوں کے مطابق نہیں کیا گیا جب کہ جمہوریت کے لیے قربانیاں دینی پڑتی ہیں لیکن یہاں تو عدلیہ اور شرفا کے خلاف دھڑے بندی ہو رہی ہے.

انہوں نے کہا کہ قربانیاں دینے کا مطلب ہے کہ اداروں کوعزت دیں لیکن اس نام نہاد جمہوریت میں وزرا ء چور ثابت ہو رہے ہیں اور 2013 میں شہبازشریف نے ایک بار ساتھ دینے کا کہا تھا میں نے جوابآ شہباز شریف سے کہا کہ بسم اللہ آپ کے ساتھ غیر مشروط پر چلتا ہوں لیکن شہبازشریف سے دو ٹوک کہا تھا کہ عزت دیں گے تو عزت ملے گی.

سابق وزیراعظم نے کہا کہ عدلیہ کے پاس آرٹیکل 190 کے تحت ملک بچانے کا اختیار ہے اور انشاءاللہ حکومت میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل جلد شروع ہوگا، ملک میں جو بھی ہونے والا ہے عوام کے لئے اچھا ہی ہوگا بس حکمران جھوٹ بولنا اور کرسی کی فکر چھوڑ دیں تو ملک قائم و دائم رہے گا.

ظفراللہ جمالی نے کہا کہ اگر پاکستان کے لیے اچھا نہیں کریں گے تو ہم عوام کو کھڑا کریں گے اور خود سپریم کورٹ جا کر کہوں کہ گا خدارا پاکستان کو بچائیں جس کے لیے میں اپنی ویسٹ کوٹ اتار کرعدالت میں کھڑا ہو جاؤں گا اور اگر سپریم کورٹ گیا تو میں اکیلا نہیں ہوں گا.

انہوں نے کہا کہ اگر مسئلہ ہوا تو میں عزت کے ساتھ استعفیٰ دے کر چلا جاؤں گا لیکن یہ کیسے لوگ ہیں کہ عدالت سے مجرم ثابت ہو گئے ہیں لیکن ڈھٹائی سے باز نہیں آتے جب کہ 2 سال پہلے ہی میں نے نوازشریف کو وزراء کی تبدیلی کا مشورہ دیا تھا لیکن وہ نہیں مانے اور آج وہی وزراء چور ثابت ہو رہے ہیں.

سابق وزیراعظم نے کہا کہ یہ کیسی سیاست ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کی قیمت لگارہا ہے یہ حق کس نے دیا ہے ؟ اور اگر نواز شریف لوگوں کو خرید سکتے ہیں پرسب لوگ نہیں بکیں گے، میں پوچھتا ہوں کہ خاندان میں اختلاف رائے برداشت نہ کرنے والے عوام کو کیا برداشت کریں گے؟

میر ظفر اللہ جمالی نے کہا کہ دوسرے ممالک پہلے اپنا مفاد دیکھتے ہیں آپ کا نہیں اس لیے دیگر ممالک سے آس لگانا چھوڑ دیں، جب وقت آئےگا تو آپ نہ تین میں رہیں گے نہ تیرہ میں اور موجودہ وزیراعظم اور نواز شریف کے دست راست جو وفاداریوں کے دعوی کر رہے ہیں محض ایک کاروباری آدمی ہیں جن کی اپنی ایئرلائن ہے اس لیے اپنے مفادات کا دفاع کر رہے ہیں.

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نیب اختیارات کے بل پر پیپلز پارٹی کو مسلم لیگ (ن) کا ساتھ نہیں دینا چاہیے تھا شریف خاندان نے اپنے مفاد کی خاطر ملک کا سارا نظام درہم برہم کر دیا ہے، یہ امیر ترین خاندان ہیں اس لیے ان کا کلیہ غریب کو غریب تر کر کے پیچھے چلانے کا ہے.

سابق وزیراعظم ظفراللہ جمالی نے کہا ہے کہ وطن کے لیے لوگ استعفیٰ دینے کیلئے تیار بیٹھے ہیں اور اس بار جو اراکین اسمبلی ریزائن کریں گے وہ پھر ری سائن نہیں کریں گے اس لیے جمہوریت کے پیچھے اپنی کرپش چھپانے والوں کو خبردار رہنا چاہیئے اور شریف خاندان کو اپنا ماضی یاد رکھنا چاہیئے کہ وہ کل کیا تھے؟

انہوں نے مزید کہا کہ احتساب کے بغیر الیکشن کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا اور مجوزہ نیب بل پر کامل یقین ہے کہ ارکان اسمبلی پاکستان کو ووٹ دیں گے جب کہ حکومتی صفوں میں اب دراڑیں پڑ چکی ہیں،اگراحتساب نہیں ہوگا، سزا نہیں ہوگی تو ملک کا کیا بنے گا؟ دشمن ایجنسیاں اندر کے لوگوں کو ورغلا کر کامیاب ہوتی ہیں.

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں