The news is by your side.

Advertisement

سابق پی ایس پی رہنماؤں نے آئی جی مبینہ اغوا پر سوالات اٹھادئیے

کراچی : پاک سرزمین پارٹی کے  سابق رہنماوں نے آئی جی سندھ پولیس کے اغوا پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے انتہائی حساس اور اہم اداروں کو لے کر دانستہ یا نادانستہ طور پر شکوک و شبہات کو ہوا دی جا رہی ہے۔

ان خیالات کا اظہار پی ایس پی کے سابق سینئر وائس چیئرمین انیس ایڈووکیٹ اور پی ایس پی کے سابق سیکریٹری جنرل رضا ہارون نے آئی جی سندھ پولیس مشتاق مہر کے جبری طور پر مبینہ اغوا پر کیا، انہوں نے سوال اٹھایا کہ آئی جی سندھ نے اس مبینہ اغوا یا زبردستی کے خلاف نہ تو ایف آئی آر درج کروائی ہے اور نہ ہی مجاذ اتھارٹی کوتحریری شکایت کی ہے۔

دونوں رہنماوں نے کہا کہ معاملہ کی حساس نوعیت اور اداروں کی ساکھ کو سامنے رکھتے ہوئے بلاوجہ کی سیاسی بیان بازی و قیاس آرائی سے گریز کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک سینئر پولیس افسر کو سب سے پہلے کیا کام کرنا چاہیے تھا؟

رضا ہارون اور انیس ایڈوکیٹ کا کہنا تھا کہ مبینہ واقعہ پر سندھ کی صوبائی حکومت، وفاقی اور پنجاب کی حکومت اور پی پی پی اور مسلم لیگ ن کے رہنما سیاسی مقاصد کیلئے متضاد بیان بازی کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کے انتہائی حساس اور اہم اداروں کو لے کر دانستہ یا نادانستہ طور پر شکوک، شبہات اور سوالات کو ہوا دی جا رہی ہے۔

سابق پی ایس پی رہنماؤں نے کہا کہ میڈیا پر گفتگو اور تبصرہ کرنے والا کوئی فرد اس معاملہ کا نہ تو عینی گواہ ہے اور نہ ہی اسے آئی جی سندھ نے اپنا ترجمان مقرر کیا ہے۔

رضا ہارون اور انیس ایڈوکیٹ نے کہا کہ امید ہے کہ انکوائری کو جلد از جلد مکمل کر کے عوام کو درست معلومات دی جائیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں