کراچی : سابق آئی جی سندھ افضل شگری نے انمول عرف پنکی کے کیس کو انتہائی حساس اور ہائی پروفائل قرار دیتے ہوئے کہا موبائل فون کے فرانزک آڈٹ سے سارے روابط سامنے آ جائیں گے۔
تفصیلات کے مطابق سابق آئی جی سندھ افضل شگری نے بدنام زمانہ منشیات فروش انمول عرف پنکی کے کیس کو انتہائی حساس اور ہائی پروفائل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے میں پولیس کی ‘کالی بھیڑوں’ اور منشیات فروشوں کے درمیان گہرے تعلقات کی تفتیش ناگزیر ہے۔
اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ منشیات کا زہر پھیلا کر معاشرے کی زندگیاں برباد کرنے والے اس گروہ کی پشت پناہی کرنے والوں کو بے نقاب کرنا ضروری ہے۔
افضل شگری کا کہنا تھا کہ ملزمہ کے موبائل فون کا فرانزک آڈٹ کروانے سے اس کے تمام پسِ پردہ روابط اور نیٹ ورک سامنے آ جائیں گے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس ہائی پروفائل کیس میں صرف منشیات ہی نہیں بلکہ ‘فنانشل ٹرانزیکشنز’ (مالی لین دین) پر بھی گہرائی سے تفتیش ہونی چاہیے تاکہ معلوم ہو سکے کہ منشیات کا کالا دھن کہاں کہاں استعمال ہوا۔
سابق آئی جی سندھ نے ملزمہ کو عدالت میں غیر مناسب طریقے سے پیش کرنے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا جس طرح پولیس نے ملزمہ کو شاہانہ انداز میں عدالت لایا، اس پر آئی جی سندھ اور دیگر حکام کو فوری انکوائری کرنی چاہیے اور متعلقہ اہلکاروں کو نوکری سے معطل کر دینا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 5 سالوں کے دوران انمول پنکی کے پولیس کے ساتھ تعلقات اور ماضی کے مقدمات کی تفتیش میں ہونے والی کوتاہیوں کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔
افضل شگری نے جسمانی ریمانڈ نہ ملنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے پیچیدہ کیسز میں جسمانی ریمانڈ نہ ملنے سے تفتیش میں شدید مشکلات پیش آتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ماضی میں ملزمہ کے خلاف درج ہونے والے مقدمات میں کیا کارروائی کی گئی اور وہ اتنے عرصے تک قانون کی گرفت سے کیسے بچی رہی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


