The news is by your side.

Advertisement

روس سے متعلق دنیا سے بڑا جھوٹ بولا، سابق یوکرینی عہدیدار کا اعتراف جرم

یوکرین کی سابق اعلیٰ عہدیدار نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے مغربی ممالک کو روسی فوجیوں کی یوکرینی عصمت دری کے بارے میں جھوٹ بولا تھا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق یوکرین کی سابق پارلیمانی کمشنر برائے انسانی حقوق لیوڈمیلا ڈینیسووا نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے مغربی ممالک کو یوکرین کو مزید ہتھیار دینے پر راضی کرنے کیلیے روسی فوجیوں کی جانب سے یوکرینی خواتین کی اجتماعی عصمت دری کے بارے میں جھوٹ بولا تھا۔

یوکرین کے ایک خبر رساں ادارے کی طرف سے شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں ڈینیسووا نے اعتراف کیا کہ اس کے جھوٹ نے اپنا مطلوبہ مقصد حاصل کرلیا ہے۔ ڈینیسووا نے بتایا کہ جب میں نے اطالوی پارلیمنٹ میں بین الاقوامی امور کی کمیٹی میں بات کی تو میں نے انھیں کہا کہ کیا آپ نے یوکرین میں ہونے والی جنسی زیادتیوں کی خبر دیکھی ہے؟ کیا آپ جانتے ہیں روسی فوجی یوکرینی خواتین سے زیادتی کر رہے ہیں؟ میں نے اس طرح کی من گھڑت خوفناک چیزوں کے بارے میں بتایا تاکہ کسی نہ کسی طرح انہیں ایسے فیصلے کرنے پر مجبور کیا جا سکے جن کی یوکرین اور یوکرائنی عوام کو ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ مذکورہ اعلیٰ عہدیدار کو غلط معلومات پھیلانے پر برطرف کیا گیا تھا، لیوڈمیلا ڈینیسووا کو یوکرین کی پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کے ووٹ کے بعد ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا جو 234-9 کے فرق سے منظور ہوا۔ پارلیمنٹ کے رکن پاولو فرولوف نے خاص طور پر ڈینیسووا پر “روسی زیر انتظام علاقوں میں ‘غیر فطری جنسی جرائم’ اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں کی متعدد تفصیلات کے حوالے سے غلط معلومات کو آگے بڑھانے کا الزام لگایا جس نے “صرف یوکرین کو نقصان پہنچایا کیونکہ ان الزامات کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں