The news is by your side.

Advertisement

راجا نے زندگی اور پھلڑا نے اپنی شان و شوکت کھو دی

پاکستان کے قدیم آثار اور تاریخی مقامات کے حوالے سے چولستان بہت اہمیت رکھتا ہے۔

یہاں مختلف شہروں اور مضافات میں کئی قدیم اور تاریخی عمارتیں موجود ہیں جب کہ بہاول نگر، چولستان کی طرف جائیں تو بہت سے قلعے اور آثار دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ان میں قلعہ پھلڑا بھی شامل ہے۔

قلعہ پھلڑا کے بارے میں تاریخ بتاتی ہے کہ اسے بیکا نیر کے راجا نے کسی زمانے میں تعمیر کروایا تھا۔ اس راجا کا نام بیکا لکھا ہے اور یہ قلعہ کسی زمانے میں‌ راجا اور افواج کا اہم دفاعی حصار رہا ہو گا۔

1750 تک یہ قلعہ بالکل کھنڈر بن گیا اور کرم خان اربائی نے اس کی تعمیر و مرمت کروائی۔ یہ قلعہ جنگ اور دشمن کے حملے سے بچنے کے لیے بہت اہمیت رکھتا تھا۔ اس قلعے کی بیرونی دیواروں کو پکی اینٹوں سے بنایا گیا تھا۔

ماہرین ثقافت اور آثار سے متعلق محققین کے مطابق اس کی دو طرفہ دیواروں کے درمیان مٹی بھری گئی تھی جو دفاعی اعتبار سے نہایت کارگر تھی۔ اسے دشمن کی گولہ باری آسانی سے نقصان نہیں پہنچا سکتی تھی۔ اسے دھوڑا کہا جاتا تھا۔

قلعے کے چاروں کونوں پر مینار قائم کیے گئے تھے جب کہ قلعے کے اندر 118 فٹ گہرا ایک کنواں بھی ہے۔ درمیان میں رہائشی کمرے اور قلعے کے جنوبی حصے کی طرف ایک سہ منزلہ اقامت گاہ موجود ہے جو کبھی خوب صورت اور طرزِ تعمیر کا شاہ کار رہی ہو گی۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں