ناندیڑ: بھارت میں مہاراشٹر کے شہر ناندیڑ میں انتہائی دلخراش واقعہ رونما ہوا، اسلام پورہ کے علاقے میں اسکول کے 4 بچے پانی کے جوہڑ میں ڈوب کر زندگی کی بازی ہار گئے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ گزشتہ روز 12بجے روما ہوا، جب بچے اسکول سے گھر واپس جا رہے تھے۔ اسی دوران ہارون باغ کے قریب ایک گہرے گڑھے میں بارش یا نالے کا پانی جمع تھا، جہاں بچے کھیلتے پوئے نہانے کے ارادے سے اتر گئے، تاہم پانی کی گہرائی کا اندازہ نہ ہونے کے باعث چاروں بچے ڈوب گئے۔
مقامی افراد نے اطلاع ملتے ہی ریسکیو کارروائی شروع کی اور بچوں کو باہر نکالا، لیکن تب تک ان کی موت واقع ہو چکی تھی۔ جائے وقوعہ سے بچوں کے اسکول بیگ، جوتے اور کپڑے بھی برآمد کرلئے گئے ہیں۔
افسوسناک حادثے میں جاں بحق بچوں کی عمریں 8 سے 18 سال کے درمیان بتائی جا رہی ہیں، جن کی شناخت محمد علی (13)، محمد فرحان (18)، محمد عدنان (8) اور محمد ریحان (11) کے طور پر ہوئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس مقام پر میونسپل کارپوریشن کی جانب سے نالے کا تعمیراتی کام جاری تھا جبکہ قریب ہی پلاٹنگ کا کام بھی ہورہا تھا، شہریوں نے سوال اُٹھایا ہے کہ گہرا گڑھا کس نے کھودا اور اسے کھلا کیوں چھوڑا گیا اور حفاظتی انتظامات کیوں نہیں کئے گئے۔
خود کو مردہ ثابت کرنے کے لیے بدنام زمانہ کانسٹیبل نے شہری کو زندہ جلا دیا
پولیس اور انتظامیہ نے موقع پر پہنچ کر مقدمہ درج کرلیا ہے اور نعشوں کو پوسٹ مارٹم کے لئے اسپتال روانہ کردیا گیا، حکام نے واقعہ کی مکمل تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


