بدھ, جنوری 21, 2026
اشتہار

کراچی کی 4 سہیلیوں نے خدمت کی اعلیٰ اور قابل تقلید مثال قائم کردی

اشتہار

حیرت انگیز

مخلوق خدا کی بے لوث خدمت عبادت کا درجہ رکھتی ہے اور جو لوگ اس مقصد کو لے کر نیک بیتی کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں تو کامیابی ان کے قدم چومتی ہے۔

ایسی ہی مثال شہر قائد کی ان چار سہیلیوں کی ہے جنہوں نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اس علم کو عام کرنے اور غریب بچوں تک پہچانے کا بیڑہ اٹھایا اور کامیاب ہوتی چلی گئیں۔

آج سے 30 سال قبل کراچی چار تعلیم یافتہ سہیلیوں نے 1995 میں اس سفر کا آغاز کیا اور بیٹھک اسکول نیٹ ورک کی بنیاد رکھی، لیکن اس وقت یہ بات کسی کے ذہن میں ہی نہیں تھی کہ اس کا دائرہ کار ایک دن پورے پاکستان تک پھیل جائے گا۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں بیٹھک اسکول نیٹ ورک کی روح رواں اور صدر عائشہ سلمان نے اس منصوبے کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے بتایا کہ پہلا باقاعدہ پراجیکٹ محض 15 بچوں سے شروع ہوا اس وقت پورے ملک میں 140 اسکول قائم کیے جاچکے ہیں اور اس میں 20 ہزار بچے زیر تعلیم ہیں جبکہ50 ہزار سے زائد بچے بنیادی تعلیم حاصل کرکے جاچکے ہیں۔

ان اسکولوں میں 1200 خواتین اساتذہ خدمات انجام دے رہی ہیں۔ فیس 50 روپے سے 200 روپے تک رکھی گئی ہے لیکن بعض اوقات یہ بھی لازمی نہیں ہوتی، فیس صرف ایک احساس ذمہ داری کے تحت لی جاتی ہے۔

عائشہ سلمان نے بتایا کہ انہوں نے بچپن سے اپنی والدہ اور ان کی سہیلیوں کی جدوجہد کی کہانیاں سنی ہیں۔ امی اور ان کی دوستوں نے یہ سب اپنے ڈرائنگ روم اور بیٹھک سے شروع کیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ شروع میں مختلف کچی آبادیوں میں بتدریج چھوٹے چھوٹے اسکول قائم ہونا شروع ہوئے جنہیں بعد میں ’بیٹھک اسکول‘ کا نام دیا گیا۔ سات سال بعد یعنی سال 2003 میں بیٹھک اسکول نیٹ ورک کی باقاعدہ بنیاد رکھی۔

عائشہ سلمان نے بتایا کہ اس نیٹ ورک سے اب تک تقریباً 50 ہزار طلبہ و طالبات فارغ التحصیل ہوچکے ہیں جن میں ڈاکٹرز، انجینئرز اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس شامل ہیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں