سعودی عرب: ماں بیٹے سے زیادتی اور قتل، چار پاکستانیوں کا سرقلم -
The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب: ماں بیٹے سے زیادتی اور قتل، چار پاکستانیوں کا سرقلم

ریاض: سعودی حکومت نے ماں بیٹے کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کا الزام ثابت ہونے پر چار پاکستانیوں کے سرقلم کردیے۔

سعودی وزارتِ داخلہ سے جاری اعلامیے کے مطابق چار افراد ریاض میں رہائش پذیر خاتون کے گھر میں چوری کی نیت سے داخل ہوئے اور انہوں سونے اور نقدی سمیٹنے کے بعد خاتون اور بچے کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔

وزارتِ داخلہ کے مطابق چاروں ملزمان  نے خاتون اور بچے کو زیادتی کے بعد گھر میں ہی قتل کیا اور وہاں سے نقدی لے کر فرار ہوگئے تھے مگر پولیس نے شواہد اکھٹے کر کے چاروں مجرمان کو حراست میں لیا۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب: 1 پاکستانی اور 5 سعودی باشندوں‌ کے سرقلم

سعودی وزارتِ داخلہ کے مطابق گرفتاری کے بعد چاروں پاکستانیوں کو صفائی کا موقع فراہم کیا گیا مگر انہوں نے عدالت میں اپنے جرم کا اعتراف کیا جس کی بنیاد پر انہیں جمعرات 8 فروری 2018 کے روز سزائے موت (سر قلم) دی گئی۔

واضح رہے کہ سعودی حکومت نے رواں سال کے آغاز کے بعد سے اب تک 20 افراد کے سر قلم کیے جبکہ گزشتہ برس 141 لوگوں کو سزائے موت دی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں دو افراد کا سرقلم، ایک پاکستانی شہری بھی شامل

خیال رہے کہ گزشتہ برس جولائی کے مہینے میں سعودی عدالت نے 6 پاکستانیوں پر انسانی اسمگلنگ کا الزام ثابت ہونے پر سزا سنائی تھی علاوہ ازیں پانچ سعودی باشندوں کے بھی سر قلم کیے گئے تھے۔

یاد رہے کہ سعودی عرب میں سر قلم کیے گئے افراد کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے جن افراد کے سرقلم کیے جاتے ہیں ان میں منشیات کی اسمگلنگ، دہشت گردی، قتل، زیادتی، مسلح ڈکیتی کے جرائم شامل ہیں۔

اسے بھی پڑھیں: سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوث 4 افراد کے سرقلم

برطانیہ سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ برس سعودی عرب میں ان جرائم پر 153 افراد کو سر قلم کی سزا دی گئی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں