جمعہ, جولائی 17, 2026
اشتہار

وفاقی نظامت تعلیمات میں ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر تعیناتی کیلیے امتحان کا اعلان

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد (9 نومبر 2025): فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے 2 سال سے زائد عرصے تک خالی رہنے کے بعد وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت کے انتظامی کنٹرول کے تحت کام کرنے والے فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن میں ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر تعیناتی کیلیے امتحان کا اعلان کر دیا۔

اے پی پی کے مطابق جولائی 2023 میں سابق ڈی جی کی برطرفی کے بعد سے نظامت عارضی انتظامات کے تحت کام کر رہا تھا، اس وقت وزارت کے جوائنٹ سیکرٹری سید جنید اخلاق ڈی جی کااضافی چارج سنبھالے ہوئے تھے۔

اکتوبر 2023 میں وزارت نے ڈی جی کے عہدے پر مستقل بنیادوں پر بھرتی کیلیے مختلف وزارتوں اور محکموں سے نامزدگیاں طلب کی تھیں۔ درخواست دہندگان میں ڈاکٹر سمیعہ رحمان ڈوگر، جو فیڈرل کالج آف ایجوکیشن کی ڈائریکٹر اور ایک اہل، تجربہ کار افسر ہیں، بھی شامل تھیں، جن کی درخواست کو ابتدائی مرحلے میں مسترد کر دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی نظامت تعلیمات کے ڈی جی کو عہدے سے ہٹانے کی سمری ارسال

دریں اثنا انہوں نے اپنی درخواست کے اخراج کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپریل 2024 میں چیلنج کیا، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ ڈی جی کا عہدہ آل پاکستان سروس کیٹیگری کے تحت آتا ہے اور اسے سول سرونٹس ایکٹ 1973 اور اپائنٹمنٹ، پروموشن اینڈ ٹرانسفر رولز 1973 کے مطابق ایف پی ایس سی کے ذریعے فل کیا جانا چاہیے۔

اگست 2025 میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا کہ وزارت کا عہدے کیلیے اشتہار "قانونی اختیار کے بغیر” تھا اور جاری بھرتی کے عمل کو کالعدم قرار دیا، اور نئے قواعد کی نوٹیفکیشن کی ہدایت کی، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اب تقرری ایف پی ایس سی کے ذریعے کی جانی چاہیے۔ کورٹ کے فیصلے نے کمیشن کے اعلان کی راہ ہموار کی، جس سے نظامت میں طویل عرصے کی انتظامی غیر یقینی صورتحال ختم ہو گئی۔

ایک استاد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مستقل سربراہ کے بغیر عبوری دور میں وفاقی حکومت کے کالجوں کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کلیدی پالیسی فیصلے، بشمول ٹائم سکیل کی گرانٹ، التوا میں رہے۔ مستقل ڈی جی کی غیر موجودگی میں پورا تعلیمی سلسلہ متاثر ہوتا ہے۔ڈی جی کے عہدے کی بھرتی کا عمل، بشمول شارٹ لسٹنگ اور انٹرویوز، حتمی تقرری سے قبل کئی مہینے لے گا۔

وفاقی حکومت کے کالجوں کے تدریسی عملے نے امید کا اظہار کیا کہ مستقل ڈی جی کی تعیناتی استحکام، شفافیت اور ضروری اصلاحات لائے گی، جن میں اساتذہ کی کمی کو دور کرنا، اٹیچمنٹ پر مبنی منتقلیوں کا خاتمہ، مضمون سے متعلقہ تدریسی اسائنمنٹس کو یقینی بنانا، اور ٹائم سکیل کی گرانٹ سے متعلق طویل التوا مسائل کو حل کرنا شامل ہے۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں