The news is by your side.

Advertisement

امریکا اور ایران کو زبردستی مذاکرات کی میز پر نہیں لایا جاسکتا: فرانس

پیرس: مشرقی وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے تناظر میں فرانس کا کہنا ہے کہ ایران پر پابندیوں میں نرمی خلیج کی سلامتی پر اس کے ساتھ بات چیت سے مشروط ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق فرانسیسی ذرائع نے واضح کیا کہ فرانس امریکا اور ایران میں سے کسی کو بھی مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ خلیجی خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہماری سفارت کاری کا جواز پیش کرتا ہے، ایران معاشی پابندیوں کے خاتمے کے بغیر امریکا سے مذاکرات نہیں کرے گا۔

فرانسیسی عہدیدار کا کہنا تھا کہ وہ سعودی عرب کی تیل کمپنی ارامکو کی تنصیبات پرحملوں کے بارے میں رد عمل اپنے دوستوں اور اتحادیوں کے ساتھ مشورہ کرنے کے بعد جاری کریں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم جلد ہی سعودی عرب پر حملوں کے بارے میں کسی نتیجے پر پہنچیں گے۔ فرانس خطے میں کشیدگی نہیں چاہتا اور تمام فریقین سے صبرو تحمل سے کام لینے پر زور دیتا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں امریکی اتحاد کے قیام پر ایران کی تنقید

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے امریکا کی طرف سے مشرق وسطیٰ میں ’پیس فُل ریزولوشن‘ یا پر امن حل کے اتحاد بنانے پر سوالات اٹھائے ہیں۔

جواد ظریف کاکہنا تھا کہ 1985 کے بعد ایران خلیجی خطے میں آٹھ مختلف امن منصوبے پیش کر چکا ہے، اس میں سن 2015 میں یمن میں قیام امن کا پلان اور رواں برس کے اوائل میں خلیج کے خطے میں عدم جارحیت کے معاہدے کی تجویز بھی شامل ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں