پیرس(18 مئی 2026): فرانس میں بدنامِ زمانہ امریکی جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے نیٹ ورک کے خلاف جاری تحقیقات کے دوران مزید تقریباً 10 نئی ممکنہ متاثرہ خواتین سامنے آئی ہیں۔
پیرس کی اعلیٰ پراسیکیوٹر لور بیکو نے ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ فروری میں ممکنہ متاثرین سے سامنے آنے کی اپیل کے بعد، اب تک تقریباً 20 خواتین نے رابطہ کیا ہے۔
لور بیکو نے بتایا کہ ان میں سے کچھ خواتین کے بارے میں تفتیش کار پہلے سے جانتے تھے، لیکن تقریباً 10 متاثرہ خواتین ایسی ہیں جو پہلی بار سامنے آئی ہیں اور جن کے بارے میں ہمیں پہلے کوئی علم نہیں تھا۔
پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح ان تمام متاثرہ خواتین کے بیانات قلمبند کرنا ہے۔ چونکہ ان میں سے کئی خواتین بیرونِ ملک مقیم ہیں، اس لیے تفتیش کاروں نے ان کی پیرس آمد کے مطابق ملاقاتوں کا شیڈول طے کرنے کی کوشش کی ہے۔
پراسیکیوٹر نے بتایا کہ تفتیش کار ایپسٹین کی فائلوں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ متاثرین کی جانب سے لیے گئے ناموں کا سراغ لگایا جا سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جفری ایپسٹین کے کمپیوٹرز، فون ریکارڈ اور ایڈریس بکس کو دوبارہ نکال لیا گیا ہے اور اس سلسلے میں بین الاقوامی برادری سے بھی مدد مانگی جائے گی۔
ڈاکٹر کا سنسنی خیز دعویٰ! جیفری ایپسٹین کی موت کے حوالے سے نیا تنازع کھڑا ہو گیا
یاد رہے کہ ستمبر 2019 میں نیویارک کی جیل میں ایپسٹین کی ہلاکت کے بعد فرانسیسی پولیس نے پیرس میں واقع ایپسٹین کے پرتعیش اپارٹمنٹ کی تلاشی بھی لی تھی۔
پہلے سے معلوم متاثرہ خواتین میں وہ شامل ہیں جنہوں نے یورپی ماڈلنگ ایجنسی کے سابق سربراہ جیرالڈ ماری اور ماڈلنگ ایجنٹ جین لوک برونیل کے خلاف بیانات دیے تھے۔
رواں سال مارچ میں 15 خواتین نے فرانسیسی حکومت سے جیرالڈ ماری کے ایپسٹین کے ساتھ ممکنہ روابط کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا، تاہم گزشتہ سال جیرالڈ ماری کے خلاف 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں کیے گئے مبینہ جنسی استحصال کی تحقیقات کو وقت گزر جانے کی وجہ سے بند کر دیا گیا تھا۔
دوسری جانب فرانسیسی حکام نے سال 2020 میں ماڈلنگ ایجنٹ جین لوک برونیل کو کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال اور امریکی ارب پتی جیفری ایپسٹین کو لڑکیاں فراہم کرنے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا تھا۔
تاہم برونیل سال 2022 میں جیل کے اندر مردہ پائے گئے تھے۔ دو سابق ماڈلز نے میڈیا کو بتایا کہ ڈینیئل سیاڈ نامی ایک ماڈلنگ اسکاؤٹ نے انہیں جال میں پھنسایا تھا تاکہ انہیں ایپسٹین اور جیرالڈ ماری کے حوالے کیا جا سکے۔
پراسیکیوٹر لور بیکو کا کہنا ہے کہ انسانی اسمگلنگ کے حوالے سے شروع کی گئی اس تازہ ترین تحقیقات میں اب تک کسی بھی ایسے شخص سے پوچھ گچھ نہیں کی گئی جو اس معاملے میں ممکنہ طور پر ملوث ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ جیفری ایپسٹین نے سال 2008 میں 18 سال سے کم عمر لڑکی کو جسم فروشی کے لیے مجبور کرنے کا جرم قبول کیا تھا، جس پر انہیں 13 ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی اور بعد میں وہ ضمانت پر رہا ہوئے تھے۔
ایپسٹین سال 2019 میں امریکی جیل میں اس وقت مردہ پائے گئے تھے جب ان پر کم عمر لڑکیوں کی جنسی اسمگلنگ کے الزامات کے تحت مقدمہ چل رہا تھا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


