فرانس: مہنگائی کے خلاف پُر تشدد مظاہرے، 80 سالہ خاتون ہلاک France fuel protests
The news is by your side.

Advertisement

فرانس: مہنگائی کے خلاف پُر تشدد مظاہرے، 80 سالہ خاتون ہلاک

پیرس : فرانس میں پیٹرول کے نرخوں میں اضافے کے خلاف جاری احتجاج کے دوران عمر رسیدہ خاتون آنسو گیس سیل لگنے کے باعث ہلاک، ہلاکتوں کی تعداد تین ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق فرانس میں پیٹرول کے نرخوں میں اضافے کے خلاف شروع ہونے والے احتجاجی مظاہرے مزید شدت اختیار کرگئے، ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث گزشتہ دو ہفتوں سے جاری احتجاج اب عوامی غصے کی صورت اختیار کرچکا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ احتجاج کرنے والے افراد نے مظاہروں کے دوران توڑ پھوڑ کی اور درجنوں عمارتوں اور گاڑیوں کو نذر آتش کردیا، فرانسیسی شہر مارشیلی میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پانی کی توپ چلائی اور آنسو گیس کے شیل بھی فائر کیے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے مظاہروں سے متاثرہ علاقے میں واقع ایک رہائشی عمارت میں مقیم تھی اور کھڑکیاں بند کررہی تھی کہ اچانک ایک شیل ان کے چہرے پر آکر لگا جس کے باعث وہ بے ہوگئیں۔

مقامی خبر رساں اداروں کاکہنا ہے کہ 80 برس کی عمر رسیدہ خاتون کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ دوران آپریشن زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگئیں۔

فرانسیسی پولیس کا کہناہے کہ 80 سالہ خاتون سمیت اب تک تین افراد پُر تشدد مظاہروں کے دوران ہلاک سیکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔

فرانسیسی وزارت داخلہ نے اتوار کے روز بتایا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف تحریک چلانے والےافراد زردرنگ کی جیکٹ پہن کر احتجاج کررہے ہیں اور ملک بھر میں ہونے والے شدید مظاہروں میں تقریباً 1 لاکھ 36 ہزارافرادحصّہ لے رہے ہیں۔

پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں چارسو افراد گرفتار بھی کیے گئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ پرتشدد مظاہروں کی وجہ سے پیرس میدان جنگ میں تبدیل ہونے کے بعد حکام تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں، فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے وزیراعظم کو سیاسی رہنماؤں اور مظاہرین سے مذاکرات کرنے کا حکم دیا ہے۔

یاد رہے کہ1968کے بعد دارالحکومت میں ہونے والے ان بدترین واقعات میں مظاہرین نے درجنوں گاڑیوں کو نذر آتش اور دکانوں میں لوٹ مار کی وارداتیں کیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں