The news is by your side.

Advertisement

فرانس نے کیمیائی حملوں کے ذمہ داروں کی تشخیص کے لیے نیا طریقہ بتادیا

پیرس : فرانس کی جانب سے شہریوں پر کیمیائی بموں سے حملہ کرنے والے ملزمان کی تشخیص کے لیے نئے میکنزم تیار کرنے کی پیش کردہ تجویز پر عالمی طاقتیں غور کرنے لگی.

تفصیلات کے مطابق کیمیائی حملوں کی روک تھام کے لیے کام کرنے والی تنظیم او پی سی ڈبلیو کی دوما میں تحقیقات کے بعد یورپی یونین کے رکن ملک فرانس حملہ آوروں کا پتہ چلانے کے لیے ایک نیا میکنزم بنانے کی تجویز پیش کی تھی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ عالمی طاقتیں کیمیل حملوں میں ملوث افراد کا تعین کرنے کے حوالے سے فرانس کی جانب سے پیش کردہ تجویز کا جائزہ لے رہی ہیں، کیمیل حملوں کی ممانعت کرنے والی تنظیم او پی سی ڈبلیو صرف حملوں کی نشاندہی کرنے ک صلاحیت رکھتی ہے لیکن نئے میکنزم کے بعد حملہ آور کا تعین بھی کرسکے گی۔

خیال رہے کہ شام میں کیمیائی حملوں کے حوالے سے اقوام متحدہ اور او پی سی ڈبلیو سنہ 2015 سے مشترکہ طور پر تحقیقات میں مصروف تھے، مذکورہ اداروں کے اختیارات میں اضافے کی تجویز کو ویٹو کردیا تھا۔

اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران فرانسیسی مندوب کا کہنا تھا کہ ’اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جب بھی شام کے حوالے سے کوئی منصوبہ یا تجویز پیش کی جاتی ہے تو اس کا راستہ بلاک کردیا جاتا ہے، ہمیں ایسا میکنزم تیار کرنے کی ضرورت ہے جس کے ذریعے ذمہ دار کی پہچان کی جاسکے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کا کہنا تھا کہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ فرانس کی جانب سے پیش کردہ تجویز کی راہ میں ایران اور روس رکاوٹیں حائل کرسکتے ہیں کیوں کہ ماضی میں مذکورہ تنطیم میں شام کے خلاف پیش کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر پیش کردہ قرارداد نامنظور ہوگئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں عالمی سطح پر ایسے میکنزم تیار کرنے کی ضرورت ہے جو کیمیائی حملے کرنے والوں کا تعین کرسکیں‘ جس کے بعد اعصاب متاثر کرنے والے کیمیل حملوں کے واقعات میں واضح کمی رونما ہوگی۔

واضح رہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی روک تھام کے لیے کام کرنے والی تنظیم او پی سی ڈبلیو کی شوریٰ اعلیٰ میں 41 ارکان ہیں اگر کسی بھی قرار داد کی منظوری لینی ہو تو 27 ووٹ حاصل کرنا ضروری ہے۔

دوسری جانب قرار داد مسترد ہونے کا متبادل یہ ہے کہ او پی سی ڈبلیو اپنی 192 ارکان کی کانفرنس منعقد کرے جو سنہ 1997 کی کانفرنس میں کیمیائی ہتھیاروں کے حوالے سے طے ہونے والے قوانین پر عمل درآمد کے لیے مداخلت کرسکتی ہے۔

خیال رہے کہ فرانس کے موجودہ صدر ایمیئول مکرون نے رواں برس مارچ میں نیدر لینڈ کا دورہے کے دوران او پی سی ڈبلیو کے سربراہ احمت اوزمچو سے ملاقات کرتے ہوئے نئے میکنزم کے حوالے گفتگو کی تھی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیاپر شیئر کریں۔  

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں