The news is by your side.

Advertisement

کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کا ادارہ، فرانس کی نئی تجویز

پیرس: فرانس نے نیدر لینڈ میں قائم کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کے ادارے ( او پی سی ڈبلیو) کے تحت ایک نئے میکانزم کی تجویز پیش کر دی۔

تفصیلات کے مطابق او پی سی ڈبلیو کو صرف یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی جگہ کیمیائی حملے کی نشاندہی کرتا ہے اسے یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ یہ بتائے کہ حملہ کس ملک کی جانب سے کیا گیا ہے تاہم اب نئے میکانزم کے ذریعے کیمیائی ہتھیاروں کے روک تھام کا ادارہ یہ بھی بتا سکے گا کہ حملہ کس ملک نے کیا ہے۔

فرانس کے اتحادی ممالک اور مغربی طاقتیں کیمیائی ہتھیاروں کے حملوں کے ذمے داروں کے تعین کے لیے فرانس کی پیش کردہ نئی تجویز کا جائزہ لے رہی ہیں، جسے فوری طور پر عملی شکل دینے کے لیے بھی مشاورت جاری ہے۔

شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کے ادارے کا معائنہ

خیال رہے کہ او پی سی ڈبلیو کی ایگزیکٹو کونسل اکتالیس ارکان پر مشتمل ہے اور اس میں کسی قرارداد کی منظوری کے لیے ستائیس ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے، البتہ ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے میکانزم پر روس اور ایران کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ روس کی جانب سے شامی شہر دوما میں کیمیائی حملہ کیا گیا تھا جس سے متعدد افراد شہید ہوگئے تھے اس حوالے سے تحقیات کے لیے کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کے ادارے ’او پی سی ڈبلیو‘ نے گذشتہ روز دوما کا دورہ کیا اور جائے وقوعہ سے نمونے بھی اکھٹے کئے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں