The news is by your side.

Advertisement

فرانس، نام میں معمولی غلطی کی وجہ سے پولیس نے بیٹے سے تعاون سے انکار کردیا

پیرس: فرانس میں ماں کے قتل کی تحقیقات سے پولیس نے بیٹے کو اس وقت صاف انکار کردیا جب اس کے والد کے نام میں معمولی غلطی دیکھی گئی۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق 74 سالہ خاتون سہیلا ال الطاف کو ستمبر 2012 میں فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا، خاتون کا 54 سالہ بیٹا ماں کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوگیا، فرانسیسی حکام نے بھی باپ کے نام میں معمولی غلطی کی وجہ سے تحقیقات سے انکار کردیا۔

سہیلا ال الطاف ان کی بیٹی اقبال الہیلی، داماد سعد الہیلی اور ایک لوکل سائیکلسٹ 45 سالہ مولیر کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔

الہیلی کی دو بیٹیاں 4 سالہ زینا اور 7 سالہ زینب واقعے کے وقت گاڑی میں موجود تھیں لیکن خوش قسمتی سے چھپ جانے کے سبب محفوظ رہی تھیں۔

مزید پڑھیں: فرانسیسی حکومت نے پیرس کے پولیس چیف کو برطرف کردیا

فرانسیسی قانون کے مطابق 74 سالہ خاتون کا بیٹے کا دماغی توازن درست نہیں ہے جس کے سبب اسے بغیر نگرانی کے باہر جانے کی بھی اجازت نہیں ہے، ماں اور بہن کی جدائی اس کی بیماری کی بڑی وجہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق نوجوان کے والد کے نام میں اسپیلنگ کی غلطی ہے، برتھ سرٹیفکیٹ میں ’طاہر‘ کی جگہ ’داہر‘ لکھا ہوا ہے۔

نوجوان کے وکیل کے مطابق نام میں غلطی نہیں ہے بلکہ اسے عربی اور انگلش میں الگ پڑھا اور لکھا جاتا ہے اسے غلطی کہہ کر تحقیقات بند نہیں کی جاسکتی ہیں۔

فرانسیسی ترجمان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے کیس عوام کے سامنے نہیں لانے چاہئیں تاہم فرانسیسی پولیس نے قاتل کی تلاش جاری رکھی ہوئی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں