کافکا کی کہانیوں کا دنیا کی کئی زبانوں میں ترجمہ ہوا جن میں زیادہ تر انگریزی سے اور براہِ راست جرمنی زبان سے تراجم بھی شامل ہیں۔ بیسویں صدی میں کافکا نے یورپ کے ان ادیبوں میں اپنا نام لکھوایا تھا، جن کے تخلیقی وفور اور اسلوب کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ وہ ایک نابغۂ روزگار کہلایا جو زندگی میں تو گم نام اور ستائش سے دور رہا، مگر بعد از مرگ بے مثال شہرت اور مقبولیت حاصل کی۔
جرمنی کا فرانز کافکا ایک اعلیٰ پائے کا ادیب تھا۔ عین جوانی میں موت کے منہ میں چلے جانے والے کافکا نے اپنے دوست میکس بروڈ کو وصیت کی تھی کہ وہ زندہ نہ رہے تو اس کی ہر غیرمطبوعہ تحریر کو آگ لگا دی جائے۔ لیکن اس کا دوست ایسا نہ کرسکا اور کافکا کی کہانیاں دنیا کے سامنے لایا جو عالمی ادب کا خزانہ ثابت ہوئیں۔ کافکا کے چند نامکمل ناول، ادھورے افسانے اور اس کے خطوط بھی منظرِ عام پر آئے۔ اس کے ناول ’دی ٹرائل‘ اور ’دی کاسل‘ بھی کئی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔ وہ ایک باکمال تمثیل نگار تھا جس نے معاشرے کی بدصورتی اور لوگوں کے بھدے رویوں پر گویا نشتر چلایا ہے۔ اس کے افسانے اور تمثیلیں اس کی ذہانت اور تخلیقی جوہر کا ثبوت ہیں۔
فرانز کافکا 3 جون 1924ء کو چالیس سال کی عمر میں چل بسا تھا۔ وہ 1883ء میں چیکوسلاواکیہ کے ایک قصبے پراگ کے یہودی گھرانے میں پیدا ہوا۔ اس نے ابتدائی تعلیمی مدارج طے کرتے ہوئے قانون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی۔ کافکا کی زندگی کئی محرومیوں اور ایسی نفسیاتی دباؤ کا شکار رہی جس میں وہ خود کو اپنے والدین کی ناپسندیدہ اولاد سمجھتا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ ایک حرماں نصیب اور بدقسمت فرد ہے۔ اس سوچ نے اس کا اعتماد چھین لیا تھا۔ وہ ذہین تھا، مگر حساسیت نے اس کی شخصیت کو عدم توازن کا شکار بنا دیا تھا۔ اسی سبب وہ ہر ایک سے گریزاں رہا۔ یہاں تک کہ وہ اپنی تخلیقات پر بھی ستائش سے بے نیاز رہا۔ کافکا نے شادی بھی نہیں کی تھی۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد فرانز کافکا کو ایک انشورنس کمپنی میں ملازمت مل گئی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ قانون کی پریکٹس بھی شروع کرچکا تھا لیکن وہ ہمیشہ بے چین ہی رہا۔ اس نے ایک مرتبہ خودکشی کی کوشش کی مگر جان بچ گئی اور پھر ایک دوست نے کافکا کو سنبھالا تھا۔ کافکا تپِ دق کی بیماری کے سبب زندگی کی بازی ہار گیا تھا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


