فرانسیسی صدر میکرون نے عرب ٹی وی کو انٹرویو میں غزہ منصوبہ پیش کر دیا۔
صدر نے بتایا کہ غزہ میں عبوری انتظامیہ اور تربیت یافتہ پولیس کی تشکیل منصوبےکا حصہ ہے ساتھ ہی غزہ میں استحکام کیلئے اقوام متحدہ کی مینڈیٹ والی عالمی فورس تجویز کی گئی ہے جب کہ غزہ منصوبے میں خطے و بیرون ممالک کی شرکت ہو گی۔
فرانسیسی صدر کے مطابق فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں مذاکرات اہم مرحلہ ہیں ہم غیرفوجی فلسطینی ریاست چاہتے ہیں جو اسرائیل کو تسلیم کرے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو خونریزی روکنی چاہیے اسرائیل کے مغربی کنارے کے الحاق کو کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا، اسرائیل کو جنوبی لبنان سے دستبردار ہو جانا چاہیے لبنانی فوج سرحدی کنٹرول سنبھال سکتی ہے۔
ایران سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ایران نے معائنہ کاروں کو جوہری مقامات پر واپسی کی اجازت نہیں دی اگر ایران نے شفاف رویہ نہ اپنایا تو دوبارہ پابندیاں لگائیں گے، ایران سنجیدہ مذاکرات شروع کرے تو بچ سکتا ہے۔
میکرون نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب سے دوستی و اعتماد پر مبنی تعلقات ہیں، 142 ممالک کو دوریاستی حل کیلئے متحرک کرنے میں کامیاب ہوئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مسلم رہنماؤں سے ملاقات کو ترک صدر رجب طیب اردوان نے انتہائی مفید قرار دے دیا۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کی عرب اور مسلم رہنماؤں سے ملاقات کا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔ اہم ملاقات میں غزہ سمیت مشرق وسطیٰ کی صورتِ حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
امریکی صدر کی مسلم ملکوں کے سربراہوں سے ملاقات تقریباً 50 منٹ تک جاری رہی، ملاقات کے بعد رہنما بات چیت کیے بغیر ہی چلے گئے۔
امریکی صدر سے ملاقات میں پاکستان، ترکیہ، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر، اردن اور انڈونیشیا کے سربراہان نے شرکت کی۔ مسلمان ممالک کے رہنماؤں نے غزہ میں جنگ بندی پر تجاویز پیش کیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


