The news is by your side.

Advertisement

فرانس: نومولود بچے کو تھپڑ مارنے والا کیتھولک پاردی عہدے سے فارغ

پیرس : فرانس کے کیتھولک پادری کو نومولود بچے کو بپتسزم کے دوران منہ پر تھپڑ مارنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد معطل کردیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق یورپی یونین کے رکن ملک فرانس کے 89 سالہ کیتتھولک پادری کو جمعے کے روز سوشل میڈیا پر نومولود بچے کو تھپڑ مارنے کی ویڈیو وائرل ہونے پر مسیحی عبادت خانے کی ڈیوٹی سے فارغ کردیا گیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کو اب تک ہزاروں لوگ دیکھ چکے ہیں، وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پاردی نومولود بچے کو بپتسزم(غسل مقدس) کے دوران رونے پر منہ تھپڑ مار رہا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ ایک مسیحی خاندان اپنی مذہبی روایات کے مطابق اپنے نومولود بچے کو کیتھولک پاردی سے بپتسزم(غسل مقدس) دلوانے لاتے ہیں، بپتسزم کے دوران بچے کے بے تحاشا رونے پر پادری غصّے میں آکر خود پر قابو نہ رکھ سکے اور نومولود کے منہ پر تھپڑ لگا دیا۔

سوشل میڈیا پر نومولود کی وائرل ہونے والی ویڈیو دیکھنے والے افراد نے پادری کو معصوم بچے کے منہ پر تھپڑ مارنے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انتہائی دکھ اور غصّے کا اظہار کیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ سماجی رابطے کی ویب سایٹز پر ویڈیو دیکھنے والے صارفین نے کہا ہے کہ ’کس طرح ممکن ہے کہ کوئی 89 سالہ پادری طیش میں آکر معصوم بچے کو رونے پر تشدد کا نشانہ بنائے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ کم سن بچے کے ساتھ پادری کے ناروا سلوک نے بچے کے والدین کو بھی حیرت میں مبتلا کردیا تھا، جس کے بعد نومولود کے والد نے زبردستی پادری سے بچے کو لےلیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے نے واقعے کی تفصیلات شائع کرتے ہوئے بچے کو چپ کروانے کے لیے پادری کی جانب سے اٹھائے گئے اقدام کو ’خوفناک‘ قرار دیا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں