The news is by your side.

Advertisement

آم کی برآمدات میں مشکلات پر فروٹ ایسوسی ایشن نے حکومت سے مدد مانگ لی

اسلام آباد:پاکستان سے ایران کو آم کی برآمدات میں مشکلات پر فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایسوسی ایشن (پی ایف وی اے) نے وفاقی وزارت داخلہ سے مدد مانگ لی۔

پاک ایران سرحد سے محدود اوقات اور ہفتہ میں تین روز تجارت اور ایران سے ٹرکوں کی آمد میں کمی سے پاکستان سے ایران کو ام کی برآمد میں مشکلات کا سامنا ہے جس پر پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایسوسی ایشن نے وزارت داخلہ سے مدد مانگ لی ہے اور ایران سے تجارت کے لیے اوقات کار میں اضافہ کے ساتھ، پورا ہفتہ تجارتی سامان کی نقل و حرکت اور ایرانی ٹرکوں کی تعداد میں اضافہ کے لیے معاملہ ایرانی حکام کے سامنے اٹھانے کی اپیل کی ہے۔

آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ وحید احمد کے مطابق تفتان سرحد ہفتہ میں تین روز محدود اوقات میں کھولی جارہی ہے۔ایران سے آنے والی 75 گاڑیوں کو واپسی پر آم کی ترسیل کے لیے استعمال کیا جارہا ہے، ایل پی جی، سیمنٹ اور دیگر مصنوعات لانے والی ایرانی گاڑیاں آم کی ترسیل کے لیے غیر موزوں اور تعداد میں کم ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی آم ایرانی گاڑیوں میں لوڈ کرکے ایران بھیجے جاتے ہیں لیکن گاڑیوں کی تعداد کم ہونے اور غیر موزوں ٹرکوں کی وجہ سے مطلوبہ مقدار میں آم سرحد پار نہیں بھیجا جارہا دوسری جانب سرحد کھولنے کا دورانیہ اور گاڑیوں کی محدود تعداد کی وجہ سے ایکسپورٹرز کو بھاری نقصانات کا سامنا ہے۔

وحیداحمد کے مطابق تفتان بارڈر پر آم کے ٹرکوں کی قطاریں لگ گئی ہیں، کھلے ہوئے کنٹینرز پر لدے ہوئے آم خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ اب تک 60 ٹرک تفتان بارڈر پر جمع ہوچکے ہیں جن کی تعداد میں یومیہ اضافہ ہورہا ہے ان ٹرکوں پر 8لاکھ ڈالر کا آم لدا ہوا ہے جو بروقت سرحد پار نہ بھیجا گیا تو پاکستانی ایکسپورٹرز کو بھاری نقصان کا سامنا ہوگا۔ اس وقت تک ان رکاوٹوں کیو جہ سے یومیہ 70 ہزار ڈالر کا نقصان ہورہا ہے۔

پی ایف وی اے نے وفاقی وزارت داخلہ کو ارسال کردہ خط میں سرحد پار تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے کی اپیل کردی ہے۔ خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پاک ایران سرحد کو ہفتہ میں سات روز کھولا جائے اور اوقات کار میں بھی اضافہ کیا جائے۔ایرانی ٹرکوں کی تعداد بڑھانے کے لیے معاملہ ایرانی حکام کے سامنے اٹھایا جائے اورایران سے یومیہ آنے والے ٹرکوں کی تعداد 150 تک بڑھائی جائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں